سوال:مفتیانِ کرام، اس مسئلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ میں جب بھی (فرض نماز کے بعد یا عام اوقات میں) دعا مانگتا ہوں، تو میری ترتیب یہ ہوتی ہے:۱۔ سب سے پہلے برکت کی نیت سے دل میں یا زبان سے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھتا ہوں۔۲۔ اس کے فوراً بعد بلند آواز یا آہستہ "الحمد للہ رب العالمین" (اللہ کی حمد و ثنا) پڑھتا ہوں۔۳۔ اور پھر "والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم" (درود شریف) پڑھ کر اپنی دعا کا آغاز کرتا ہوں۔کچھ حضرات کا اشکال ہے کہ جہاں حضور ﷺ نے "الحمد للہ" سے آغاز کیا، وہاں "بسم اللہ" کیوں پڑھی جائے؟براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میری اس ترتیب (تسمیہ + حمد + درود) میں کوئی شرعی قباحت یا بدعت کا پہلو ہے؟ یا میرا یہ طریقہ کار شرعاً بالکل درست اور مستحسن ہے؟
دعا کے آداب میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت اور مستحب ہے۔ چنانچہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ دعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جائے، پھر درود شریف پڑھا جائے اور اس کے بعد دعا مانگی جائے۔البتہ دعا سے پہلے برکت کی نیت سے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھ لینے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں، کیونکہ تسمیہ ذکرِ الٰہی ہے اور بہت سے جائز امور کے آغاز میں باعثِ برکت ہے۔ لہٰذا سائل کا تسمیہ، پھر حمد، پھر درود شریف پڑھ کر دعا کرنا فی نفسہٖ جائز ہے اور اسے بدعت نہیں کہا جائے گا ،تاہم چونکہ دعا کے آغاز میں خاص طور پر تسمیہ پڑھنے کا التزام نبی کریم ﷺ سے منقول نہیں، اس ليےمذكور تریب کا التزام كرنے اوراسے دعا کا مسنون اور لازم حصہ سمجھنے سے اجتناب کرتےہوئےکبھی کبھاراسے ترک کرناچاہیے،تاکہ التزام کی کیفیت باقی نہ رہے۔۔
کمافي «سنن الترمذي» : عن فضالة بن عبيد، قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد إذ دخل رجل فصلى فقال: اللهم اغفر لي وارحمني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عجلت أيها المصلي، إذا صليت فقعدت فاحمد الله بما هو أهله، وصل علي ثم ادعه». قال: ثم صلى رجل آخر بعد ذلك فحمد الله وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «أيها المصلي ادع تجب». هذا حديث حسن(5/ 516)
وفيه أيضا : عن عبد الله، قال: كنت أصلي والنبي صلى الله عليه وسلم، وأبو بكر، وعمر معه، فلما جلست بدأت بالثناء على الله، ثم الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم دعوت لنفسي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «سل تعطه، سل تعطه(2/ 488)
وفي «المفاتيح في شرح المصابيح» : قوله: "عجلت أيها المصلي"؛ أي: تركت الترتيب في الدعاء؛ لأنه ينبغي أن يذكر الله تعالى أولا ليحصل رضاه، ويؤدي حق نعمته عليه بتوفيقه إياه للصلاة وغيرها، ثم يصلي على النبي عليه السلام؛ لأنه هو الذي هداه إلى الصراط المستقيم، وهو الوسيلة بينه وبين الله تعالى، فإذا أدى شكر الله وشكر رسوله فقد أدى حق الخدمة فقد استحق أن يقبل قوله، ويستجاب دعاؤه.(2/ 166)