السلام علیکم، جناب عالی! میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں برطانیہ جا رہا ہوں،وہاں میرا قیام دس دن لندن میں، پھر 5 دن مانچسٹر میں ،اور پھر دس دن لندن میں ھوں گا، میں ان دنوں میں نماز قصر پڑھ سکتا ہوں؟جزاک اللہ خیر ا!
واضح ہوکہ فقہِ حنفی کے جو شخص مسافتِ شرعی (تقریبا سوا ستترکلومیٹر یا اس سے زیادہ) سفر کرنے کے ارادے سے اپنے شہر یا گاؤں کی حدود سے باہر نکل جائے، وہ شرعاً مسافر شمار ہوتا ہے،اورمسافر پر ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعت فرض نمازوں میں قصر واجب ہوتی ہے، جبکہ فجر کی دو رکعت اور مغرب کی تین رکعت حسبِ معمول ادا کی جائیں گی۔
البتہ اگر مسافر کسی شہر یا مقام پر پہنچ کر پندرہ دن یا اس سے زیادہ مسلسل قیام کی نیت کر لے تو وہ مقیم شمار ہوگا، اور اس پر نماز پوری پڑھنا لازم ہوگا،جبکہ اس کے برعکس اگر اس کی نیت پندرہ دن سے کم قیام کی ہو تو وہ شرعاً مسافر ہی رہے گا ،اور قصر کرنا اس کے ذمہ لازم ہو گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا قیام چونکہ لندن میں دس دن، مانچسٹر میں پانچ دن ،اور دوبارہ لندن میں دس دن کا ہے،اوران مقامات میں سے کسی بھی مقام پر مسلسل پندرہ دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت نہیں ، لہذاسائل ان مقامات پر شرعاً مسافر شمار ہوگا،چنانچہ اپنی انفرادی نمازوں میں قصر ہی کرے گا۔
ففي البحر الرائق:(قوله من جاوز بيوت مصره مريدا سيرا وسطا ثلاثة أيام في بر أو بحر أو جبل قصر الفرض الرباعي) بيان للموضع الذي يبتدأ فيه القصر ولشرط القصر ومدته وحكمه اھ (138/2)۔
وفي البدائع:وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما: فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامةاھ (1 / ۹۷) ۔
وفی الدر المختار:(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل بل إلى الزوال ولا اعتبار بالفراسخ على المذهب (بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة) حتى لو أسرع فوصل في يومين قصر؛ ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني. اھ (2/122/123)۔
وفی الہندیۃ: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية (1/ 139، ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: وإن صلى المسافر بالمقيمين ركعتين سلم وأتم المقيمون صلاتهم، كذا في الهداية وصاروا منفردين كالمسبوق إلا أنهم لا يقرءون في الأصح، هكذا في التبيين، ويستحب للإمام أن يقول: أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر، كذا في الهدايةاھ(1/142)۔
وفی الھندیۃ: ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبدا الخ(ج 1 ص 139 ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضا: ولا يصير مسافرا بالنية حتى يخرج ويصير مقيما بمجرد النية الخ (ج 1 ص 139)۔
وفی الدر المختار:ولو لموضع طریقان لاحدھما مدۃ السفر والاخر اقل قصر فی الاول لا فی الثانی الخ (ج 2 ص 133 ط:سعید)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4