رشوت

کسی جائز کام کیلئے مجبورا رشوت دینا

فتوی نمبر :
96542
| تاریخ :
2026-06-18
معاملات / مالی معاوضات / رشوت

کسی جائز کام کیلئے مجبورا رشوت دینا

محترم مفتی صاحب!
میرا تعلق ایک دوا ساز (فارماسیوٹیکل) کمپنی سے ہے اور میں اس کمپنی کا مالک ہوں۔ ہماری کمپنی مختلف ادویات اور ہیلتھ سپلیمنٹس تیار کرتی ہے۔ کسی بھی نئے برانڈ یا پروڈکٹ کی تیاری کے لیے حکومتی ادارے (DRAP) سے رجسٹریشن اور منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ہم ایک مکمل فائل (Dossier) تیار کرکے متعلقہ محکمہ میں جمع کرواتے ہیں۔ بعد ازاں یہ فائل ان کی کمیٹی یا میٹنگ میں پیش ہوتی ہے، اور اگر منظور ہو جائے تو ہمیں اس برانڈ کی رجسٹریشن/اجازت نامہ مل جاتا ہے، جس کے بعد ہم قانونی طور پر اس برانڈ کو تیار کر سکتے ہیں۔
ہمارے شعبے میں بہت سی کمپنیاں DRAP کے متعلقہ افراد کو 10,000 سے 15,000 روپے تک رشوت دیتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فائلوں پر کوئی ڈیفیشنسی نہیں لگتی اور ان کا کام جلدی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے آج تک کسی کو رشوت نہیں دی۔
تاہم ہمیں اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہماری فائلوں پر مختلف قسم کے اعتراضات (Deficiencies) لگا دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مطلوبہ منظوری حاصل نہیں ہو پاتی۔ حال ہی میں ہم نے 51 فائلیں جمع کروائی تھیں۔ اس مرتبہ ہم نے ایک اعلیٰ سطح کے تجربہ کار کنسلٹنٹ سے تمام ڈوزیئرز تیار کروائے تھے، اور ہماری معلومات کے مطابق ان میں کسی قسم کی غلطی یا کمی کا شائبہ بھی نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود 51 کی 51 فائلیں مختلف Deficiencies لگا کر واپس کر دی گئیں۔
اس سلسلے میں دریافت کرنا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف اپنے جائز قانونی حق کے حصول اور غیر ضروری رکاوٹوں یا اعتراضات سے بچنے کے لیے ایسی رقم ادا کرے، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ جبکہ رجسٹریشن حاصل ہونے کے بعد کمپنی اس برانڈ کو تیار کرتی ہے اور اس سے آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ بعد میں اس برانڈ سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، اس لیے ایسی ادائیگی بھی رشوت اور حرام کمائی کے زمرے میں آئے گی۔ جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اگر مقصد صرف اپنا جائز حق حاصل کرنا ہو اور متعلقہ محکمہ بلاوجہ رکاوٹیں پیدا کر رہا ہو تو ایسی صورت کا حکم مختلف ہو سکتا ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرما دیں:
1. ایسی رقم دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
2. اگر دینے والا صرف اپنا جائز حق حاصل کرنا چاہتا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
3. ایسی صورت میں رقم لینے والے اور دینے والے کے حکم میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
4. ایسی ادائیگی کے بعد حاصل ہونے والی کاروباری آمدنی کا کیا حکم ہوگا؟
جزاکم اللہ خیراً
والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ رشوت کا لین دین شریعتِ مطہرہ میں ناجائز اور حرام ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت وارد ہوئی ہے،لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ اپنے معاملات میں حتی الامکان رشوت کے لین دین سے مکمل اجتناب کرے۔
البتہ اگر کسی نئے برانڈ یا پراڈکٹ کی رجسٹریشن کے لیے سائل تمام قانونی تقاضے پورے کرچکا ہو، لیکن متعلقہ حکام بلاجواز رشوت کے بغیر درخواست منظور نہ کرتے ہوں، اور سائل کے پاس اپنے جائز حق کے حصول یا درخواست کی منظوری کے لیے کوئی مؤثر اور قانونی متبادل راستہ موجود نہ ہو، تو ایسی مجبوری کی صورت میں محض اپنے حق کے حصول کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہوگی۔ تاہم رشوت وصول کرنے والےافرادکے لیے اس رقم کا لینا بہرحال ناجائز اور حرام ہوگا۔
جبکہ سائل اگر مذکور مجبوری کے تحت رشوت دے کر برانڈ یا پراڈکٹ کی منظوری حاصل کرلے، اور اس کے بعد شرعاً جائز اور حلال پراڈکٹ تیار کرکے اس کا کاروبار کرے، تو اس جائز کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً حلال ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المرقاۃ شرح المشکاۃ:
"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه".
(کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، الفصل الثاني،ج:۷ ؍۲۹۵ ،ط:دارالکتب العلمیة)
و فی رد المحتار: وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة. الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه. الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط الخ (کتاب القضاء، ج: 5، ص: 362، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96542کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • میڈیسن کمپنیوں کی طرف سے ڈاکٹرزکے لئے کمیشن مقررکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   رشوت 0
  • استاد کا شاگرد کو امتحان میں کامیاب کرانے پر تحفہ لینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • کمپنی کا وینڈر بننے کیلئے کمیشن دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • سرکاری نوکری لینے کیلئے رشوت دینا

    یونیکوڈ   اسکین   رشوت 0
  • میڈیکل کی سیٹ حاصل کرنے کیلئے رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • زمین نام کرنے کیلئے رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • نوکری کے حصول کیلئے رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • بل پاس کرانے کیلئے مجبوراً رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • کرکٹ میچ جیتنے والی ٹیم کا ڈبل پیسے لینے کا حکم

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • اپنے حق کی وصولی کیلئے کیا رشوت دی جاسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • کیا ٹھیکیداروں کاکام لینے کے لئے بنا کچھ بولے ہیڈ کلرک کو کچھ فیصد دینارشوت ہے؟

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • اپنے جائز کام کے لئے آفیسرکو رشوت دینے کا حکم

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • اضافی رقم دیکر گیس وبجلی کے کنکشن جلد لگوانے کا حکم

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • رشوت اور کمیشن میں کیا فرق ہے؟

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • گورمنٹ کی ملازمت کے حصول کے لئے رشوت دینے اور لینے کا حکم

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • کسی دوسری کمپنی میں اپنا مال بیچنے کے لئے وہاں کے بندوں کو کمیشن دینے کاحکم

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • پیسے دے کر ملازمت حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • جن سے رشوت لی ہے اگر ان کا انتقال ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے ؟

    یونیکوڈ   انگلش   رشوت 0
  • ملازمت حاصل کرنے کیلئے رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • اچھی ملازمت کے حصول کے لیے افسران بالا کو رشوت دینے کا حکم

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • رشوت دے کر سرکاری نوکری حاصل کرنا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • ٹیسٹ پاس کروانے کیلئے رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
  • کسی جائز کام کیلئے مجبورا رشوت دینا

    یونیکوڈ   رشوت 0
Related Topics متعلقه موضوعات