بخدمت محترم مفتیان کرام، السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، بعد از عرض سلام مودبانہ گذار ش ہے، موجودہ دور میں عائلی نزاعات كى کثرت اور فیملی کورٹس میں مقدمات کے طویل التواء کے باعث بالخصوص مسلم خواتین شدید ذہنى ، معاشرتى اور عملی مشکلات سے دوچار ہیں۔ پاکستان میں رائج مسلم عائلی قوانین کے تحت مصالحتى کونسل (74 Section کو صرف صلح کرانے کا اختیار حاصل ہے۔ جبکہ شدید شقاق اور دائمی نزاع کی صورت میں تفریق کا اختیار نہیں، جس کے نتیجے میں اکثر خواتین کو طویل عدالتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اہل علم کے علم مىں ہے کہ برصغیر کے اکابر علماء بالخصوص حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور دیگر اکابر احناف نے ضرورت شدیدہ کے پیش نظر بعض عائلی مسائل میں فقہ مالکی سے استفادہ فرمایا ، جس کی منظم صورت الحیلۃ الناجزہ کی تدوین کی شکل میں سامنے آئی، اور بعد ازاں اس بنیاد پر Dissolution of 1939 Muslim Marriages Act وجود میں آیا، جس سے حنفی خواتین کے لیے فسخ نکاح کی متعددصورتیں شرعا وقانون تسلیم کی گئیں۔قرآن کريم نے میاں بیوی کے نزاع کی صورت میں حکمین مقرر کرنے کی ہدایت فرمائی ہے: فابعثوا حکما من أهله وحكما من أهلها ( سورة النساء: 35) فقہ مالکی کے مطابق حکمین محض وکیل نہیں، بلکہ حاکم کی حیثیت رکھتے ہیں ، اور اگر وہ تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ زوجین کے درمیان نباه ممکن نہیں تو وہ شوہر کی اجازت کے بغیر بھی تفریق یا فسخ نکاح کا فیصلہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ متعدد مالکی ائمہ ( مثلاً امام مالک، امام قرطبی ، امام در دیر و غیر ہم ) کی تصریحات سے واضح ہے، بعض معاصر فقہاء بھی اسی قول کو حالات حاضرہ میں قابل عمل قرار دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں، از راہ کرم درج ذیل امور میں شرعی راہنمائی مطلوب ہے:
کیا موجودہ حالات میں ضرورت شدیدہ کے پیش نظر ، فقہ مالکی کے مذکورہ قول سے استفادہ کر سکتے ہیں یا ایسا نظم قائم کرنے کی شرعی گنجائش ہے کہ مصالحتی کونسل (حکمین کی حیثیت سے ) شوہر کی اجازت کے بغیر تفریق یا فسخ نکاح کا اختیار دیا جا سکے؟ اگر کوئی مصالحتی کونسل فقہ مالکی کے اصولوں کے مطابق ، عادل حکمین کے ذریعے تفریق کا فیصلہ کرے تو کیا شرعاً اس فیصلے کو فسخ نكاح معتبر سمجھا جائے گا؟ کیا شرعی اعتبار سے اس بات کی گنجائش ہے کہ پاکستانی عائلی قانون میں ترمیم کی جائے جس کے مصالحتی کونسل کو صلح کے ساتھ ساتھ تفریق کا اختیار بھی دیا جائے۔جس طرح مولانا اشرف علی تھانوی نے اس نوع کے مسائل میں فقہ مالکی سے استفادہ کے لیے اہل مدینہ سے رجوع فرمایا تھا، کیا آج کے دور میں بھی اجتماعی طور پر معاصر مالکی فقہاء کی آراء سے استفادہ کر کے اس مسئلے پر کوئی قابل عمل فقہی موقف مرتب کیا جا سکتا ہے؟ سائل کی نیت کسی فقہی مسلک پر اصرار نہیں، بلکہ اکابرین امت کی رہنمائی میں شرعی حدود کے اند رہتے ہوئے مظلوم خواتین کی عملی مشکلات کا حل تلاش کرنا ہے.از راه کرم، قرآن وسنت ، فقہ اسلامی اور اکابر امت کے ارشادات کی روشنی میں رہنمائی فرمادی جائے۔بينوا توجروا، و سلام محمد رافع، مکان نمبر 35 گلی نمبر 4، بلاک T نیو ملتان کالونی ملتان۔
مظلوم خواتین کے مسائل کے حل اور عائلی نزاعات کے ازالہ کی کوشش یقیناً قابلِ قدر ہے، تاہم نکاح و طلاق کے احکام شریعتِ مطہرہ کے متعین کردہ اصولوں کے تابع ہیں، اس لیے محض معاشرتی ضرورت یا قانونی سہولت کی بنا پر حكمين كو ایسے اختیارات تفویض نہیں کیے جا سکتے جو جمہور فقہائے امت کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہوں۔
فقہ حنفی کے مطابق قرآن کریم کی آیتِ کریمہ: ﴿فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا﴾ میں مذکور حکمین کا منصب بنیادی طور پر صلح کرانا اور تنازع ختم کرنے کی کوشش کرنا ہے، ان کو از خود تفریقِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں، الا یہ کہ زوجین ان کو اس کا وکیل یا مجاز بنائیں۔ لہٰذا موجودہ مصالحتی کونسل کو محض حکم قرار دے کر شوہر کی اجازت یا عدالتی اختیار کے بغیر فسخ و تفریق کا حق دینا فقہ حنفی کے مطابق درست نہیں ہوگا۔
البتہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور دیگر اکابر نے بعض شدید ضرورتوں میں فقہ مالکی کے بعض اقوال سے استفادہ کیا ہے، لیکن یہ کام انفرادی خواہش یا انتظامی سہولت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اہلِ علم کی اجتماعی تحقیق، شرعی ضوابط اور حقیقی ضرورت کے دائرے میں کیا گیا تھا۔ لہٰذا اگر اس موضوع پر کسی قانونی یا اجتماعی اصلاح کی ضرورت محسوس کی جائے تو اس کا فیصلہ بھی جید علماء، مفتیان اور ماہرینِ قانون کی اجتماعی مشاورت سے ہونا چاہیے۔
لہٰذا موجودہ حالات میں مصالحتی کونسل کے فیصلے کو محض فقہ مالکی کی بنیاد پر از خود نافذ فسخِ نکاح قرار دینا محلِّ نظر ہے، اس لئے جید علماء کرام کے طے کردہ أصول وضوابط اور ملکی قوانین کے مطابق طے کرانا ضروری ہے۔
كما في شرح مختصر الطحاوي للجصاص: قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان).اهـ (مسألة الخلع، ج: 4، ص: 456، ط: دار البشائر الإسلامية - ودار السراج)
وفي المدونة: قال: قال مالك: الأمر الذي يكون فيه الحكمان إنما ذلك إذا فتح ما بين الرجل وامرأته حتى لا يثبته بينهما بينة ولا يستطاع أن يتخلص إلى أمرهما، فإذا بلغا ذلك بعث الوالي رجلا من أهلها ورجلا من أهله عدلين فنظرا في أمرهما واجتهدا، فإن استطاعا الصلح أصلحا بينهما وإلا فرقا بينهما، ثم يجوز فراقهما دون الإمام، وإن رأيا أن يأخذ من مالها حتى يكون خلعا فعلا.اهـ (ما جاء في الخلع، ج: 2، ص: 267، ط: دار الكتب العلمية)
وفي عقود رسم المفتي: فإن المتقدمين شرطوا في المفتى الاجتهاد وهذا مفقود في زماننا فلا اقل من أن يشترط فيه معرفة المسائل بشروطها وقيودها التي كثيرا ما يسقطونها ولا يصرحون بها اعتمادا على فهم المتفقه وكذا لا بد له من معرفة عرف زمانه وأحوال أهله والتخرج في ذلك على أستاذ ماهر.اهـ (نشوز المرأة على الرجل، ص: 46، ط: : در سعادت، إسطنبول، 1325 هـ - 1907 م)
وفي أصول الإفتاء وآدابه: ومن هذه الجهة ربما يجوز لمفتي مذهب واحد أن يختار قول المذهب الآخر للعمل أو الفتوى، بشرط أن لا يكون ذلك بالتشهي و اتباع الهوى، وإنما يجوز ذلك في ثلاث حالات، (ص: 243) (إلى قوله) الحالة الأولى: الإفتاء بمذهب آخر لضرورة أو حاجة عامة. وذلك أن يكون في المذهب في مسألة مخصوصة حرج شديد لا يُطاق، أو حاجة واقعية لا محيص عنها، فيجوز أن يُعمل بمذهب آخر دفعا للحرج وانجازا للحاجة، (ص: 244) (إلى قوله) ولكن يجب لجواز الإفتاء مذهب آخر بسبب الحاجة أو عموم البلوى أن تتحقق الشروط الآتية:
الأول: أن تكون الحاجة شديدة، والبلوى عامة في نفس الأمر، لا مجرد الوهم بذلك.
الثاني: أن يتأكد المفتي من مسيس الحاجة، وذلك بمشاورة غيره من أصحاب الفتوى وأصحاب الخبرة في ذلك المجال، والأحسن أن لا يبادر بالإفتاء منفردا عن غيره، بل يحاول بالقدر المستطاع أن يضم معه فتوى غيره من العلماء، وخاصة إذا أراد أن ينشر الفتوى على نطاق واسع.
الثالث: أن يتأكد ويثبت في تحقيق المذهب الذي يريد أن يفتي به تحقيقا بالغا، والأحسن أن يراجع في ذلك عماء ذلك المذهب، ولا يكتفي برؤية مسألة في كتاب أو كتابين، لأن كل مذهب له مصطلحات تخصه، وأساليب ينفرد بها، وربما لا يصل إلى مرادها الحقيقي إلا من مارس هذه المصطلحات والأساليب.
الرابع: أن لا يكون القول المأخوذ به من الأقوال الشاذة التي تخالف جماهير فقهاء الأمة، ووقع منهم الإنكار عليها.
الخامس: أن يؤخذ ذلك المذهب بجميع شروطه المعتبرة فيه، لئلا يؤدي ذلك إلى التلفيق في مسألة واحدة. (ص:246-248، ط: مكتبة معارف القرآن، كراتشي، باكستان)
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1