السلام علیکم!
مفتی صاحب! میرا نام۔۔۔ ہے، اور میں پاکستان میں انجینئر کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں، پچھلے سال میں بہتر محسوس نہیں کر رہا تھا، میں سارا دن سست رہتا تھا، میرے امتحان کے نتائج بہتر نہیں تھے، ایک دن میری نظر سے ایک کتاب گزری ، اس میں کچھ دعائیں تھیں، میں نے ان دعاؤوں کو پڑھنا شروع کیا، کچھ ماہ بعد میں نے اپنے آپ کو بہتر محسوس کیا، میں ان دعاؤوں کو پڑھتا رہا، اب میں اپنے آپ کو بہت ترو تازہ محسوس کرتا ہوں،اب جب میں اپنے ہاتھ اللہ کے سامنے پھیلاتا ہوں تو وہ چمکنے لگتے ہیں، جب کبھی میں کچھ کرنا چاہتا ہوں، تو میرے ہاتھ چمکنے لگتے ہیں، میں نے یہ تجربہ اندھیرے میں بھی کیا ہے، لیٹے ہوئے بھی اگر میں اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں تو وہ چمکنے لگتے ہیں۔ جناب یہ مجھے نہیں معلوم کیا ہے؟ کیا یہ اچھا ہے؟ مجھے برائے مہربانی بتائیں یہ کیا ہے؟
محترم سائل اگر یہ چمک واقعی ہے ،اور اس سے دل میں اطمینان اورخشیت الہی اور اللہ تعالی کی محبت میں غلبہ پیدا ہو کر اعمال خیر میں تقویت حاصل ہوتی ہے، اور جن دعاؤں کو آپ پڑھتے ہیں، وہ نا جائز اور غیر شرعی کلمات سے پاک ہیں ،اور آپ بھی پابند شرعیت ہیں ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہے، اس کے بقاء کی بھی دعا کرنی چاہیے، اگر ایسا نہ ہو تو یہ کوئی مقبولیت کی دلیل نہیں، بلکہ استدراج ہے اس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اس پر اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب