کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر نے بیوی کے حق مہر میں ایک تولہ سونا بنا کے دیا تھا اور پھر لڑکی والوں کی طرف سے اس کے سسر نے اپنی بیٹی کو ذاتی حیثیت سے آدھا تولہ سونا دیا تھا،مالی معاملات کی وجہ سے شوہر نے وہ سونا جو ڈیڑھ تولہ تھا اپنی بیوی کی رضامندی سے ٖفروخت کیا تھا، اوراب اس کا سسر اس چیز کا تقاضا کر رہا ہے کہ ان کا آدھا تولہ سونا ان کو واپس کیا جائے جو انہوں نے اپنی بیٹی کودیا تھا، اب داماد کا سوال یہ ہے کہ اس کے سسر کا یہ آدھا تولہ سونے مانگنا جو اس نے اپنی بیٹی کو بطور گفٹ دیا تھا شرعاً صحیح ہے یا نہیں ؟نیز شادی 2021 میں ہوئی۔
صورتِ مسئولہ میں لڑکی کے والد نے اگر اپنی بیٹی کو آدھا تولہ سونا بطور گفٹ دیا ہواور لڑکی نے اس پر قبضہ بھی کر لیا ہو، تو اس سے وہ لڑکی اس سونے کی مالکہ بن چکی تھی ،لہذا وہ سونا سائل کےسسر کی ملکیت سے نکل کر سائل کی اہلیہ کی ملکیت میں آگیا تھا، جس کے بعد وہ اس میں اپنی مرضی واختیار سے تصرف کرنے کی مجاز تھی، اس لیے اب سائل کے سسر کا اس سونے کی واپسی کا مطالبہ شرعاً درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھدایۃ: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض اھ (کتاب الھبۃ،ج:3،ص:401،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفی الھندیۃ: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط.الخ(الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:377،مط:مکتبہ ماجدیۃ)
وفی الدرالمختار: جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته) بل تختص به (وبه يفتى)الخ(باب المھر،مطلب فیما یرسلہ الی الزوجۃ،ج:3،ص:155،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ:قال وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل الخ(باب الرجوع فی الھبۃ،ج:3،ص:226،مط: دار احياء التراث العربي)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0