دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، جنہیں اپنے والد کی طرف سے میراث میں زمین ملی تھی۔ ان میں سے ایک بھائی کو مالی ضرورت پیش آئی، تو اس نے اپنی زمین کے ساتھ اپنے دوسرے بھائی اور دونوں بہنوں کے حصے کی زمین بھی اُن کی رضامندی سے فروخت کر دی۔ البتہ فروخت کے وقت یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ دوسرے ورثاء کی زمین کس حیثیت سے فروخت کی جا رہی ہے؟ آیا وہ بھائی بعد میں اُنہیں وہی زمین واپس خرید کر دے گا، یا اس کے بدلے ویسی ہی دوسری زمین دے گا، یا صرف فروخت کے وقت کی قیمت ادا کرے گا؟ کچھ مدت کے بعد اس کے بھائی نے اس سے مطالبہ کیا کہ: “تم نے میری زمین فروخت کی ہے، لہٰذا یا تو مجھے وہی زمین واپس خرید کر دو، یا اس جیسی دوسری زمین دو، یا موجودہ وقت کی قیمت ادا کرو(جو کہ اب بہت زیادہ بنتی ہے) وہ بھائی بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ فروخت کے وقت معاملے کی نوعیت واضح نہیں کی گئی تھی، البتہ وہ کہتا ہے کہ میری نیت یہ تھی کہ میں فروخت کے وقت کی قیمت ادا کروں گا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں ممر یز خان پر اپنے بھائی اور بہنوں کے حق میں شرعاً کیا لازم ہے؟ آیا بھائی پر لازم ہے کہ وہ وہی زمین واپس خرید کر دے (اگر موجود اور ممکن ہو)، یا اس جیسی اور مثل دوسری زمین دے، یا فروخت کے وقت کی قیمت ادا کرے، یا موجودہ وقت کی قیمت ادا کرنا اس پر لازم ہوگا؟ بينوا توجروا۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر بھائی ممر یز خان نے دیگر بہن ،بھائیوں کی اجازت سے مذکورمشترکہ زمین فروخت کی تھی، تو اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں دیگر ورثاء کے حصےکی جتنی رقم بنتی تھی، وہ اس بھائی کے ذمہ واجب الادا تھی۔ لہٰذا مکان فروخت کرتے وقت اس کی جو قیمت تھی، اس کے مطابق اب اس بھائی کے ذمہ دیگر ورثاء (بہن ،بھائیوں) میں سے ہر ایک کو اس کے شرعی حصص کے مطابق رقم ادا کرنا لازم ہے نہ کہ اس کے بدلےمیں زمین یا آج کے حساب سےبننے والی قیمت۔اس لئے اس شخص کے مذکور بھائی کا مطالبہ کہ ”مجھے زمین دو یا آج کی قیمت ادا کرو“شرعا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار:مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها...قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالهاالخ.(کتاب الرھن، فصل في مسائل متفرقة، ج:6، ص:525، ط: سعید)
وفی بدائع الصنائع: وأما حكم الشركة.فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا.( فصل في حكم الشركة، ج: 6، ص: 65، ط: سعید)
وفیہ ایضا: وقد ذكرنا المسألة في كتاب البيوع، وإن كان مما لا مثل له من المذروعات والمعدودات المتفاوتة فعليه قيمته؛ لأنه تعذر إيجاب المثل صورة ومعنى؛ لأنه لا مثل له فيجب المثل معنى وهو القيمة(فصل في حكم الغصب،ج: 7، ص: 150، ط: سعید)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0