میرا سوال یہ ہے کہ میں عرصہ ۲۵ سال سے قطر میں نوکری یا بزنس کر رہا ہوں۔
آج سے کوئی دس سال پہلے میں نے ایک ہندو کے ساتھ کچھ بزنس شروع کیا تھا ۔ وہ (ہندو میرا باس تھا) اور میں ایک ہی کمپنی
میں ملازم کرتے تھے ۔ مجھے جاب سے نکال دیا گیا اچانک لیکن اس ہندو سے پرانا تعلق تھا وہ قائم رہا ۔ مجھے تھوڑا محسوس ہوتا تھا کہ اس نے مجھے نکلوانے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جو کہ وہ ڈال سکتا تھا ۔
اس نے میرے ساتھ بزنس شروع کیا اور مجھے کچھ رقم دی (بالکل یاد نہیں آ رہی کتنی) میں نے وہ رقم یا اس میں سے کچھ پاکستان بھیج دی اور اس کو جھوٹ بولا کہ کوئی رقم لے کر سامان نہیں دے رہا ہے۔ میری بے ایمانی کی بالکل نیت نہیں تھی بس یہ تھا کہ کما کر اسکی رقم پوری کر دوں گا ۔
لیکن نہیں کر سکا اور وہ کرونا کے دوران مر گیا تھا ۔ اب ہر وقت یہ دھڑکہ لگا رہتا ہے کہ یوم حساب کوئی پکڑ نہ ہو جاۓ۔ (اس میں تھوڑا غصہ تھا کہ جاب سے کیوں نکلوایا) لیکن اب بہت بے سکونی ہے اور نہ رقم یاد ہے نہ وہ دنیا میں ہے ۔
اسکی بیوی کا نمبر تلاش کر کہ میسج کیے لیکن جواب نہیں آیا ۔
اس کے علاوہ بھی میں نے اسکے ساتھ کافی کام کیے لیکن کبھی کوئی بے ایمانی کی دونوں نے ۔
مرنے سے پہلے آخری بار بات ہوئی تو وہ میرے ساتھ ٹھیک بات کر رہا تھا ۔
بہت پریشانی ہے۔
رہنمائی فرمائیں
مفصل جواب دیں مہربانی ہو گی
سائل نے اگر مذکور ہندو شخص سے کاروبار کے لیے رقم لی تھی تو اس کی اجازت کے بغیر، کاروبار کے لیے لی گئی رقم حقیقت کو مخفی کرکے اپنے استعمال میں لانا شرعاً ناجائز تھا، بلکہ یہ امانت میں خیانت اور دھوکہ دہی کی ایک صورت تھی۔ لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے اس گناہ پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرے، اور جس قدر رقم اس نے استعمال کی تھی، مذکور شخص کے ورثاء کا پتا لگا کر انہیں ادا کرے۔ اگر صحیح مقدار یاد نہ ہو تو حتی المقدور غور و فکر کرکے غالب گمان کے مطابق اس کا اندازہ لگائے، اور احتیاطاً کچھ زیادہ رقم ادا کرے، تاکہ کسی کا حق باقی نہ رہ جائے۔اور اگر بھرپور کوشش کے باوجود ورثاء تک رقم پہنچانا ممکن نہ ہو تو اپنے ذمہ کو فارغ کرنے کے لیے اتنی رقم فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔ چنانچہ اس طرح کرنے سے امید ہے کہ سائل کے گناہ کی تلافی ہوجائے گی۔ تاہم رقم صدقہ کرنے کے بعد بھی اگر کوئی وارث مل جائے اور اپنے حق کا مطالبہ کرے تو اس کا حق ادا کرنا لازم ہوگا۔
کما فی التنزیل العزیز:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (الأنفال: 27)
وفی سنن أبي داود للسجستاني: 3537 - حدثنا محمد بن العلاء وأحمد بن إبراهيم قالا حدثنا طلق بن غنام عن شريك - قال ابن العلاء وقيس - عن أبى حصين عن أبى صالح عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك ». (3/ 313)
وفی الدر المختار: (علیہ دیون ومظالم جہل أربابہا وأیس) من علیہ ذلک (من معرفتہم فعلیہ التصدق بقدرہا من مالہ وإن واستغرقت جمیع مالہ) ہذا مذہب أصحابنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (و) متی فعل ذلک (سقط عنہ المطالبۃ) من أصحاب الدیون ۔
وفی ردالمحتار: وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین برئ في الآخرۃ ۔ (۶/۴۴۳ ، کتاب اللقطۃ ، قبیل مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم وجہل أربابہا ، ط : دار الکتب العلمیۃ بیروت ، و:۴/۲۸۳ ، ط: دار الفکر بیروت)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0