السلام علیکم جناب مولانا صاحب: گزارش یہ ہے کہ میں نے دوست سے ڈیڑھ تولہ سونا بتاریخ (8/11/2015) لیا تھا اس وقت سونے کا ریٹ فی تولہ سونا( 35سے 40 ہزار) روپے تھا پھر میں نے بتاریخ (7/1/2017)دو تولہ سونا واپس کر دیا تھا ،(7/1/2017)کو فی تولہ سونے کا ریٹ پچاس ہزار(50000) روپے تھا جو کہ میں نے واپس دے دیا ،کچھ دنوں بعد بندے نے مجھ پر الزام لگایا کہ یہ رسید اور سونا نقلی ہے اور ناراض ہو کر مجھے سونا واپس کر دیا رسید سمیت، پھر بندے نے نہ سونا لیا اور نہ پیسے اب( 15) سال بعد کہہ رہا ہے کہ میرا دو تولہ سونا واپس کر دو، چونکہ اب سونے کا ریٹ چار لاکھ پچھتر ہزار(475000)روپے ہے آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ یہ بندہ حق پر ہے یا نہیں؟ قران کی روشنی میں اس مسئلے کا حل کیا ہے، وضاحت کریں مہربانی ہوگی، مزید وضاحت میں مسمیٰ نور محمد نے یہ سونا اپنے دوست مسمیٰ گلاب سے لیا تھا ،جو کہ ان کی بہن کا تھا، میں نے کچھ عرصہ کے بعد اور اس نیت سے ڈیڑھ تولے کی جگہ پر دو تولے واپس کر دیا کیونکہ درمیان میں وقت گزر چکا تھا،اور ایک قسم کا ان کی طرف سے بھی بہن نے بھائی کو کہا تھا کہ تم مجھے پھر دو تولے واپس کرو گے اس لیے میں نے دو تولے واپس کیا تھا، پھر بہن کے گھر والوں نے اعتراض کیا کہ اس میں ملاوٹ ہے تو ہم نے رسید دکھایا اور ان کو کہا کہ آجاؤ سنار کے پاس چلتے ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ نہیں گئے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ کرایہ بھی ہم دیں گے لیکن نہیں آئے اور پھر اتنا عرصہ خاموشی رہی اور اب اتنے عرصے کے بعد وہ دو تولے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اب سونا بہت مہنگا ہو چکا ہے، تو اب کیا ہم اس وقت کی قیمت ادا کریں یا سونا دیدیں ؟ اور کیا سونا دو تولہ دینا لازم ہے یا ڈیڑھ تولہ سونا لازم ہے؟
صورت مسؤلہ میں چونکہ سائل (مقروض) خود اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ قرض خواہ (یعنی سائل کے دوست)اور اس کی بہن کے گھر والوں نے سونے میں ملاوٹ کی بنا پر وہ سونا سائل کو واپس کردیا تھا ،اور اب تک سائل نے ان کو اس کا قرض اصل سونے یا اسکی قیمت کی صورت میں ادا نہیں کیا ہے ، تو ایسی صورت میں قرض خواہوں کا سونا بدستور سائل کے ذمے قرض رہا اور قرض میں اسی طرح چیز کو ہی واپس کرنا لازم ہوتا ہے جو قرض خواہ لے چکا ہے ،لہذا اب کئی سال گزرنے کے بعد جب قرض خواہ دوست نے اس کا مطالبہ کردیا ہے تو اس کا یہ مطالبہ برحق ہے ، اور سائل کے ذمےفقط ڈیڈھ تولہ سونا اسی کیریٹ کے اعتبار سے واپس کرنا لازم جس کو سائل لے چکا ہے ،جبکہ محض وقت گزرنے سے چونکہ حق اور قرض معاف نہیں ہوتا اس لیے بھی قرض خواہوں کا مطالبہ شرعاًدرست ہے ،البتہ مقرو ض کی طرف سے ڈیڈھ تولہ کے بجائے دو تولہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں بلکہ یہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی ردالمحتار: )تحت قولہ: مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها،قلت: والجواب الواضح أن يقال قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها أي إذا دفع الدين إلى دائنه ثبت للمديون بذمة دائنه مثل ما للدائن بذمة المديون،اھ(كتاب الأيمان،ج: 3،ص: 789،مط: دارالفکر)
و فیہ ایضاً: وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها، وكذلك كل ما يكال ويوزن فالقرض فيه جائز،وكذلك ما يعد من البيض والجوز اهـ وفي الفتاوى الهندية: استقرض حنطة فأعطى مثلها بعدما تغير سعرها يجبر المقرض على القبول، اھ(باب المرابحة والتولية،فصل في القرض،ج: 5،ص: 162،مط: دارالفکر)
و فیہ ایضاً: فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا لأنه مجازفة،اھ(باب الربا،مطلب في استقراض الدراهم عددا،ج: 5،ص: 177،مط: دارالفکر)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0