کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ
میرے والد صاحب نے آج سے تقریباً چالیس پچاس سال قبل میری پھوپھی کی شادی کے موقع پر اپنے ہونے والے بہنوئی سے تعاون کے طور پر تین ہزار ایک سو(3,100 ) روپے لیے تھے، جو کہ قرض نہیں تھے بلکہ شادی کے موقع پر بطورِ تعاون دیے گئے تھے۔
لیکن اب اس پھوپھی کا ہونے والا ایک بیٹا ہم سے ان پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے کہ 'وہ میری والدہ کے پیسے ہیں، مجھے آج کے حساب سے واپس کرو۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر ہم اس کو پیسے واپس کرنا چاہیں(اگرچہ وہ ان کی والدہ کی شادی میں خرچ ہوگئے تھے ) تو ایسی صورت میں وہی 3100 روپے واپس کرنے ہیں یا آج کے ویلیو کے حساب سے ؟ وہ آج کی ویلیوکے اعتبار سے 17 لاکھ (سترہ لاکھ) روپے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
سائل کے والد نے اپنی بہن (سائل کی پھوپھی) کی شادی کے موقع پر اپنے ہونے والے بہنوئی سے جو رقم لی ہے، وہ اگر قرض نہیں بلکہ بطورِ تعاون لی گئی ہو (جیسا کہ سوال میں اس کا ذکر ہے) تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کے والد کے ذمہ اپنے بہنوئی یا ان کی اولاد کو وہ رقم واپس کرنا لازم نہیں البتہ اگر سائل کے پھوپھی زاد کا اس بات کا دعویٰ ہو کہ وہ رقم (3100) قرض تھی اور یہ بات گواہوں یا سائل کے والد کے اقرار سے ثابت ہو جائے، تو سائل کے والد کے ذمہ اس رقم کی ادائیگی لازم ہوگی، لیکن اس صورت میں بھی قرض خواہ صرف تین ہزار ایک سو (3100) روپےکا حقدار ہوگا۔ نہ کہ قوتِ خرید کی بنا پر سترہ لاکھ (1700000) روپے کا۔ اس لئے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس ناحق مطالبہ سے دستبردار ہو جائے۔
کما فی المصنف ابن أبي شيبة: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: مثل الذي يعود في عطيته مثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه .(باب من كره الرجوع في الهبة ،ج:12،ص:148،ط:دار كنوز)
و فی ردالمحتار تحت: (قوله فلا عبرة بغلائه ورخصه) فيه أن الكلام في الكساد، وهو ترك التعامل بالفلوس ونحوها (الی قولہ) وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه،الخ (باب الربا،ج:5،ص:165،ط:سعید)
وفی بدائع الصنائع: قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض، (الی قولہ) ولأبي حنيفة أن رد المثل كان واجبا، والفائت بالكساد ليس إلا وصف الثمنية، وهذا وصف لا تعلق لجواز القرض به.اھ(کتاب القرض،ج:7،ص:395، ط:دارالکتب العلمیہ)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0