السلام علیکم! میرا سوال باجماعت قصر نماز کے متعلق ہے، اگر کوئی مسافر عصر یا ظہر کی جماعت میں اس طرح شامل ہوتا ہے کہ مقامی (یا مسافر) امام کی آخری رکعت ہو تو وہ مکمل نماز پڑھے (چار رکعت) یا ہر صورت میں صرف دو رکعت (قصر) ہی پوری کرے؟
اگر یہ مسجد محلہ ہو اور امام مہتمم ہو تو مقیم کی اقتداء کی وجہ سے مسافر مقتدیوں پر اتمام یعنی چار رکعت پوری پڑھنا شرعاً لازم ہو جاتا ہے، جبکہ مسافر امام کی اقتداء میں قصر لازم ہوگی چاہے مقتدی مسبوق رہ جائے یا ابتداء سے ہی شریک ہو۔
ففی فتح القدیر: وإن اقتدیٰ المسافر بالتیمم فی الوقت اتم أربعاً لأنه یتغیر فرضه إلی أربع للتبعینة اھ (۲/ ۱۲)
وفیه أیضاً: (وإن صلی المسافر بالمقیمین رکعتین مسلم وأتم المقیمون صلاتهم) کالمسبوق إلا أنه لا یقرأ فی الأصح (إلی قوله) (ویستحب للإمام إذا سلم أن یقول أتموا صلاتکم فإنا قوم سفر اھ (۲/ ۱۳)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4