کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام بابت اس مسئلے کے کہ ہماری زمین ہے خیبر پختونخواہ ضلع تور غر میں جو کہ زمانہ قدیم تقریباً 110/120 سال پہلے سے یکے بعد دیگرے ایک خاندان کے زیر استعمال ہے جوکہ ہمارے بڑوں نے استعمال اور منافع حاصل کرنے کے لیے اُنہیں دی تھی اور اُس زمین کے پورے منافع وہ لوگ حاصل کررہے ہے،بلآخر ہم نے ان سے زمین خالی کرنے کا مطالبہ کیا تو اِس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کے بڑوں نے مختلف اوقات میں ہم سے تھوڑا تھوڑا کرکے4140 روپے لیے ہے اور ابھی تک واپس نہیں کیے (کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہے اس دعوے پر کہ ہمارے بڑوں نے یہ رقم لی ہو) لیکن پھر بھی معاملات کو بہتر بنانے اور زمین کو متنازعہ بنانے سے بچنے کے لیے ہمارے بڑوں نے 2014میں جرگہ بلا یا اور جرگہ والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ رقم ان کے حوالہ کی جائے اور وہ لوگ زمین خالی کر دینگے، مذکور رقم کے حوالہ کرنے تک وہ ادھر رہینگے، اور اس طریقہ سے بات ختم ہوگئ دونوں فریقین کے رضامندی سے، اور 2024میں اس رقم کی ادائیگی کی گئ، پھر سربراہان جرگہ اور علاقے کے معزز مشران کی سفارش اور منت سماجت پر مزید دو (2) سال ان کو رہنے کے لئے دیے گئے، اور اس بات پر گواہان اور جرگہ میں لکھے ہوئے کاغذات موجود ہے۔
لیکن اب اُس خاندان میں ایک دوسرے آدمی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے بڑوں نے آپ کے بڑوں کو ایک سوبیس سال قبل چھ سو(600) درہم کے سکے دیے تھے اور یہ زمین اُس چھ سو ( 600) درہم کے سکوں کے عوض ہماری پاس رہن ہے، لہذا جب تک اس چاندی کے سکوں کی موجودہ قیمت نہ ملے تو ہم زمین حوالہ نہیں کریں گے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ جب 2014 میں جرگہ والوں نے فریقین کی ر ضامندی سے فیصلہ کیا اور بات ختم ہوگئ تو اب اس شخص کا یہ دعویٰ معتبر ہوگا یا نہیں ؟
جبکہ واضح رہے کہ وہ لوگ سالانہ تقریباً موجودہ حساب سے 80000 ہزار روپے کا فائدہ زمین سے کھیتی باڑی اور گھاس
( جانوروں کی خوراک) کی صورت میں حاصل کرہے ہیں، کیا ہم ان سے اس کے بدلے عوض کا مطالبہ کرسکتے ہے اس کی وضاحت کریں ۔شکریہ
جواب سے قبل بطور تمہید یہ بات واضح رہے کہ فریقین کے معاملہ میں کسی ایک فریق کے بیان کو بنیاد بناکر اس معاملہ کی حقیقی صورت حال تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے یکطرفہ موقف کی بنیاد پر بیان کردہ حکم سوال میں بیان کردہ حقائق اور صورت ِحال کی صحت پر مبنی ہوتا ہے ،اگر سوال میں بیان کردہ حقائق درست نہ ہو یا معاملہ کی حقیقی صورت حال اس کے بر خلاف ہو تو مذکورہ حکم بھی برقرار نہیں رہتا۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر مذکور زمین واقعۃ سو ایک سو بیس سال قبل بغیر کسی عوض اُس خاندن کو فقط استعمال کے لیے دی گئی ہو تو اب تک اُن کا مالکان کی اجازت سے اس زمین سے منافع حاصل کرنا شرعاً درست تھا زمین کے مالکان کے لیے اب اُن سے منافع کے عوض کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ مالکان کی جانب سے زمین خالی کرنے کے مطالبہ پر جب فریقین نے باقاعدہ جرگہ کے سامنے وصول کردہ رقم کی ادائیگی اور زمین خالی کرنے پر اتفاق کرلیا تھا تو اب دونوں کو حسبِ معاہدہ جرگہ کے فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پورا کرنا لازم اور ضروری ہے۔
جبکہ جرگہ کے فیصلہ کے بعد زمین کی حوالگی کے موقع پر دوسرے فریق یا اُن کے رشتہ داروں کی جانب سے یہ دعویٰ کرنا کہ یہ زمین لیتے وقت ہمارے بڑوں نے اس وقت رائج چاندی کے سکوں کے حساب سے مبلغ چھ سو روپے دئیے تھے محتاجِ ثبوت ہے اگر ان کے پاس اپنے اس دعویٰ پر کوئی شرعی گواہان یا کوئی تحریری ثبوت موجود ہو تو جرگہ کے سامنے لاکر اپنے دعویٰ کا اثبات کرے، ورنہ محض جھوٹے دعویٰ کو بنیاد بنا کر کسی کی چیز کو اپنے پاس روکے رکھنا شرعاً غصب کے زمرے میں آتا ہے جو شرعاً بھی ناجائز اور حرام ہے جس سے اجتناب اور صاحبِ حق کو اس کا حق حوالہ کرنا لازم ہوگا۔
کمافی الدر المختار: البينة على من ادعى واليمين على من أنكر (کتاب القضاء مطلب في استخلاف القاضي نائبا عنه،ج:5،ص:441،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: (وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع كذا في محيط السرخسي الخ(کتاب الدعوی،ج:2،ص:5،مب: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفی الھدایۃ: قال: "وإذا نكل المدعى عليه عن اليمين قضي عليه بالنكول وألزمه ما ادعى عليه الخ(باب الیمین،ج:3،ص:156،مط: دار احياء التراث العربي)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0