ایسی زمین جو سرکاری ملکیت میں ہو اور اس پر مسجد بنا لی گئی ہو تو ایسی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھانے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مذکورہ مسجد کی تعمیر کا اگر متعلقہ سرکاری مجاز افسران کو علم ہو اور انہیں اس پر اعتراض نہ ہو تو یہ بلاشبہ مسجد شرعی ہے، اس میں نمازِ جمعہ پڑھنا اور پڑھانا بھی جائز اور درست ہے، بشرطیکہ صحتِ جمعہ کی دیگر شرائط پائی جاتی ہوں۔
ففی فتاویٰ تاتارخانیة: وفی فتاوی أبی لیث: سلطان أذن لا قوام أن یجعلوا أرضا من أرض الکورة فی مسجدهم ویزید وافیه ویتخذوا حوانیت موقوفة علی مسجدهم قال الفقیه ابوبکر الاسکاف: إن کانت البلدة فتحت عفوة جاز امره إذا کان ذلك لا یضر بالمارة، وإن کانت فتحت صلحا لم یجز امره، وفی التجنیس فی الفتاوی: وعلامة الفتح عنوة وضع الخراج علی أراضیهم وعلامة الفتح صلحا وضع العشر علی اراضیهم اھ (۵/ ۸۴۳)
وفی اصول الکرخی: الاصل ان للحالة من الدلالة کما للمقالة اھ (ص: ۱۳) واللہ أعلم بالصواب!