کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) ضرورت کے وقت یعنی کوئی دوست وغیرہ بیمار ہو اور خون کی ضرورت پیش آئے تو آدمی اپنا خون نکال کر اس کو دے سکتا ہے کہ نہیں؟
(۲) بعض غیر مسلم ممالک میں لوگ اپنے بدن کے اعضاء عطیہ کرتے ہیں مثلاً آنکھیں وغیرہ کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ نابینا حضرات یہ آنکھیں لگواسکتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے۔
(۱) کسی دوسرے شخص کو اپنا خون دینے میں قدرے تفصیل ہے وہ یہ کہ عام حالات میں تو خون دینا جائز نہیں اس لئے کہ ایک تو اعضاء انسانی کے احترام کے خلاف ہے اور دوسرے اس لئے کہ خون نجاستِ غلیظہ ہے اور نجس اشیاء کا استعمال جائز نہیں، لہٰذا عام حالات میں اُس سے احتراز ضروری ہے، البتہ علاج اور دواء کے طور پر اور حالتِ اضطراری میں اس کا استعمال بلاشبہ جائز اور درست ہے اور حالت اضطراری سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ ہو، اور کوئی دوسری دواء اس کی جان بچانے کیلئے مؤثر یا موجود نہ ہو اور خون دینے سے اس کی جان بچ جانے کا غالب گمان ہو تو ان شرائط کے ساتھ خون دینا شرعاً جائز اور درست ہے اور اس صورت میں خون دینا انشاء اللہ تعالیٰ موجب اجر و ثواب بھی ہوگا۔
(۲) انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور مخدوم کائنات ہے اس لئے شریعتِ اسلامیہ نے اس کے تمام اعضاء کو خواہ وہ زندہ انسان کے ہوں یا مردہ کے بہرحال قابلِ احترام قرار دیا ہے اور اسی کے پیشِ نظر شریعت نے اس کے زندہ اور کارآمد اعضاء ہی نہیں بلکہ اس کے قطع شدہ اور بیکار اعضاء کی قطع و برید کرکے استعمال میں لانے کو بھی ناجائز اور حرام کہا ہے اور اس حکم میں مسلمان اور کافر سب یکساں اور مساوی ہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں انسانی اعضاء کے احترام کے پیش نظر مذکور آنکھیں خرید کر نابینا حضرات کو لگانا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ اعلم