۱۔ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام کہ کیا پلاسٹک سرجری ( پیوندکاری) جائز ہے؟ اگر کوئی اپنا چہرہ ظاہری طور پر تبدیل کرنا چاہے تو ہم کس حد تک جا سکتے ہیں؟
پلاسٹک سرجری کی وجہ سے اگر کسی عضو مثلاً انسانی چہرہ پر انسان کے اپنے رنگ یا قدرے مختلف ایسا خول چڑھا دیا جاتا ہو کہ اصل عضو نمایاں نہ ہو سکتا ہو اور بوقت ضرورت اسے اتار بھی جاسکتا ہو تو اس کی موجودگی میں وضو اورغسل درست ادا نہیں ہونگے اور اگر چہرہ وغیرہ پر پلاسٹک یا کوئی جِھلی اس طرح چڑھا دی جاتی ہو کہ وہ چہرے کا جزو بن جاتا ہو اور بغیر عمل جراحی وغیرہ کے وہ بہ آسانی اُتر نہ سکتا ہو تو وہ چہرے کے حکم میں ہے اس کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل درست ہیں اور ان دونوں صورتوں میں پلاسٹک سرجری وغیرہ کی شرعاً گنجائش ہے۔اگرچہ بلاضرورت ایسے عمل سے احتراز بہتر ہے۔