سوال: غیر وقف زمین پر بنی مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ کیا قانونی اعتبار سے وقف کرنا ضروری ہے یا صرف نیت کافی ہے؟ دلائل کی روشنی میں جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں۔
واضح ہو کہ غیر وقف شدہ زمین میں بنائی گئی مسجد شرعاً مسجد کے حکم میں نہیں ہوتی ۔ تاہم اس میں نماز ادا کرنے نماز ادا ہو جاتی ہے، مگر مسجد کا ثواب نہیں ملتا ہے۔
نیز یہ بات بھی یاد رہے کہ زبان سے الفاظ ادا کئے بغیر محض نیت کر لینے سے وقف تام نہیں ہوتا، بلکہ شرعاً وقف ہونے کے لیے نیت کے ساتھ زبان سے بھی الفاظ ادا کرنا ضروری ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں جب مالک زمین زبان سے کہہ دے کہ یہ زمین مسجد کے لیے وقف ہے اور اس کے بعد ایک دفعہ اذان و اقامت کے ساتھ جماعت سے نماز ادا کر لی جائے تو شرعاً وہ مسجد بن جائے گی، حکومتی کا غذات میں درج کرانا شرعاً ضروری نہیں، البتہ قانوناً ضروری ہو تو اس کو بھی پورا کرنا چاہیے۔
فی الدر المختار: (وركنه الألفاظ الخاصة ك) أرضي هذه (صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ونحوه) من الألفاظ كموقوفة لله تعالى أو على وجه الخير أو البر واكتفى أبو يوسف بلفظ موقوفة فقط قال الشهيد ونحن نفتي به للعرف۔(4/ 340)۔
و فی بدائع الصنائع: و فی المسجد أن یصلی فیہ جماعۃ بأذان و إقامۃ بإذنہ کذا ذکر القاضی فی شرح الطحاوی و ذکر القدوری – رحمہ اللہ- فی شرحہ أنہ إذا أذن للناس بالصلاۃ فیہ فصلی واحد کان تسلیما، و یزول ملکہ عند أبی حنیفۃ و محمد رحمھما اللہ، ( ۶/ ۲۲۰) ۔و اللہ أعلم بالصواب