کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) دیوث کسے کہتے ہیں؟
(۲) کیا دیوث جنت میں داخل ہوگا یا نہیں؟
(۳) مسجد میں میوزک سننا کیسا ہے ، یعنی موبائل وغیرہ پر ؟
(۴) اگر مسجد میں موبائل پر میوزک بجے تو اس کا گناہ تمام سننے والوں کو ہوگا یا اس کو جس کے موبائل پر میوزک بجے گا ؟
برائے مہربانی جواب واضح اور تفصیلی طور پر دیں اور ہر سوال کا الگ الگ جواب دیں۔
دیوث کا اگر لغوی معنیٰ پوچھنا مراد ہے تو لغت میں بے غیرت ، بے حمیت اور بے حیا مرد کو کہا جاتا ہے ، جبکہ شریعت کی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے محارم کی بدکاری سے دیدہ دانستہ چشم پوشی کرنے والا ہو ۔
(۲) یہ معاملہ مشیتِ خداوندی پر موقوف ہے تا ہم دیوث اگرچہ اپنے عمل کی وجہ سے فاسق اور گنہگار ہے لیکن اگر اس کا خاتمہ ایمان پر ہو تو وہ اپنے فسق کی سزا پانے کے بعد ضرور جنت میں جائے گا۔
(۳، ۴) اس کا بہتر حل یہ ہے کہ نمازی جیسے ہی مسجد میں داخل ہو تو آدابِ مسجد کے پیشِ نظر اپنا موبائل فون بند کردے اور جب مسجد سے باہر نکلے تو پھر اسے کھول دے ، جبکہ ساز باجے والے ٹونز کا استعمال مسجد اور غیر مسجد ہر دو جگہ منع ہے اور پھر مسجد میں استعمال کی وجہ سے اس کی قباحت اور شناعت مزید بڑھ جاتی ہے اس لئے ایسے ٹونز کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔
فی الشامیۃ : تحت (قولہ مرادف دیوث) قال الزیلعی ہو الذی یرٰی مع امرأتہٖ او محرمہٖ رجلًا فیدعہ ، خالیا بہا و قیل ہو المتسبب للجمع بین انثین لمعنی غیر ممدوح و قیل ہو الذی یبعث امرأتہ مع غلام بالغ او مع مزارعہ إلی الضیعۃ أو یأذن لہما بالدخول علیہا فی غیبتہٖ۔(ج۴، ص۷۰)۔
و فی المشکوٰۃ : عن ابی ذرؓ قال اتیت النبی ﷺ و علیہ ثوب أبیض و ہو نائم ثم أتیتہ ، و قد استیقظ فقال ما من عبد قال لا إلہ الا اللہ ثم مات علی ذٰلک دخل الجنۃ قلت إن زنی و إن سرق قال و إن زنی و إن سرق۔(ج۱، ص۱۴)۔
و فی السنن الکبریٰ : عن ابی ہریرۃؓ قال الجرس مزامیر الشیطان۔(ج۵ ، ص۴۱۶)۔
و فیہ ایضًا : عن ام حبیبۃ عن النبی ﷺ قال لا تصحب الملائکۃ رفقۃً فیہا جرس۔(ج۵، ص۴۱۶)۔