مسجد میں بیٹھ کر کرکٹ کی باتیں کرنا حلقہ بنا کر ، اور کوئی بھی ایسا واقعہ ڈسکس کرنا کہ ایک لڑکے نے لڑکی کا پیچھا کیا اور اس کو لوگوں نے پکڑکر مارا ، اور دلیل یہ دیتے ہیں ، کہ اعتکاف کی نیت کی ہوئی ہے ، اور دوسرا یہ بتانا کہ کرکٹ میں مقابلہ ہوتا ہے ، دوڑ ہوتی ہے ، تو دوڑنا تو سنت ہے تو کیا ہم اس بارے میں مسجد میں بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہیں ، میں نے تو ایسا ہی سنا ہے کہ مسجد میں صرف دین کی بات ہو ، فضول باتیں نہ کی جائیں ، حلقہ بنا کر چاہے وہ اعتکاف میں ہے یانہیں۔
واضح ہو کہ مسجد اللہ کا گھر ہے ، جوکہ اس کی عبادت (نماز ، تلاوت قرآن اور ذکر اذکار وغیرہ ) کیلئےہے ، اس میں دنیا کی باتیں یا کرکٹ کی باتیں کرنے کے لئے باقاعدہ حلقے بنانا پھر اس پر دلائل بھی دینا جائزنہیں ، بلکہ یہ مسجد کے آداب واحترام کے بھی خلاف ہے ، اور مسجد میں اس طرح باتیں کرنے سے نیکیاں اس طرح برباد ہوجاتی ہیں ، جس طرح آگ سے لکڑی جل جاتی ہے ، لہذا مسجد میں بلاضرورت دنیوی باتوں سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدرالمختار : والكلام المباح؛ وقيده في الظهيرية بأن يجلس لاجلہ الخ
وفی ردالمحتار: تحت قولہ (بأن يجلس لأجله) فإنه حينئذ لا يباح بالاتفاق لأن المسجد ما بني لأمور الدنيا(الی قولہ) كما جاء «الحديث في المسجد يأكل الحسنات كما تأكل البهيمة الحشيش»الخ (کتاب الصلاۃ مطلب فی الغرس فی المسجد ج 1 ص662 ط:سعید)۔
وفی البحرالرائق :ولا یجوز ان تعمل فیہ الصنائع لانہ مخلص اللہ تعالیٰ فلا یکون محلا لغیرالعبادۃ غیرانہم قالوا فی الخیاط اذا جلس فیہ لمصلحۃ من دفع الصبیان وصیانۃ المسجد لابأس بہ للضرورۃ ولا یدق الثوب عند طیہ دقا عنیقا الخ (فصل فی بیانہا خارجھا مما ھو من توابعھا ج2 ص35 ط :ماجدیہ)۔