کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل انسانی اعضاء کی پیوندکاری کا مسئلہ بہت عام ہوگیا، یعنی ایک آدمی کا مثلاً گردہ وغیرہ دوسرے آدمی کو لگانا یا آنکھ یا اس کا قرینہ لگانا کیسا ہے؟ نیز اس کی اگر کوئی وصیت کرے، تو وہ وصیت کیسی ہے جائز ہے یا ناجائز؟ یا بغیر وصیت کے کوئی کسی کے اعضاء نکالے تو کیسا ہے؟ نیز انتقال خون یعنی خون کسی دوسرے کو لگانا نیز خون کی ذخیرہ اندوزی یعنی Blood Bank اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ وصیت کرنے والے اور بغیر وصیت کے اعضاء کو نکالنے والے کا کیا حکم ہے؟ تفصیل مع الدلائل واضح کریں۔
(۲) اس سلسلہ میں جدید دور کے کیا تقاضے ہیں؟ افیدونا افادکم اللہ!
انسان خواہ مسلمان ہو یا کافر، زندہ ہو یا مردہ اس کے اعضاء کسی دوسرے کو لگانا چاہے اس کی اجازت اور وصیت سے ہو یا اس کے بغیر ہو بلاشبہ ناجائز ہے، بلکہ اس قسم کی وصیت ہی سرے سے جائز نہیں، کیونکہ انسان ایک قابل احترام ہستی ہے، اس کے اعضاء کی قطع وبُرید میں اس کی اہانت اور تخلیقِ انسانی کے منشاء کی مخالفت ہے، نیز اگر اس چیز کی اجازت دے دی جائے تو اعضائے انسانی کے حصول میں قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوجائے گا، اور بہت سے مُردے اپنے بہت سے اعضاء سے محروم ہوکر اس دنیا سے جایا کریں گے اور بہت سے غریب اپنے بچوں کی مصیبت دُور کرنے کیلئے اپنی یہ چیزیں بھی داؤ پر لگادیں گے، اس لئے یہ طریقہ شرعاً اور عقلاً دونوں طرح ناجائز ہے، لہٰذا اس قسم کے عمل سے احتراز لازم ہے۔ ٭
تاہم اگر ضرورتِ شدیدہ ہو اور کوئی دیندار اور ماہر مُعالج گردہ وغیرہ کی تبدیلی ہی کی صورت میں مریض کی جان بچانے کی تجوید دے دے تو ایسی مجبوری کے عالم میں چونکہ بعض متاخرین علماء سے اس تبدیلی کی گنجائش منقول ہے اس لئے اگر کوئی مریض مجبوراً ان علماء کی رائے کے مطابق عمل کرلے تو امید ہے کہ اس کا یہ عمل انشاء اللہ موجب ملامت نہ بنے گا۔
البتہ آج کل اس حالت میں بھی اگر انسان کی بجائے جمادات و حیوانات پر تحقیق کرکے اس سے اِس انسانی ضرورت کو پورا کرنے کا انتظام کرلیا جائے تو نہایت مناسب ہے کیونکہ اس میں شرعاً یا عقلاً بھی کوئی قباحت نہیں اور جدید سرجری رپورٹ کے مطابق بھی یہ طریقہ زیادہ مُفید ہے، اور اس سلسلہ میں مزید وضاحت کیلئے رسالہ ’’انسانی اعضاء کی پیوندکاری‘‘ مصنفہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کا مطالعہ ضروری ہے۔ ٭
کسی دوسرے شخص کو اپنا خون دینے کے بارے میں قدرے تفصیل ہے وہ یہ کہ عام حالات میں تو خون دینا جائز نہیں، اس لئے کہ یہ ایک تو اعضاء انسانی کے احترام کے خلاف ہے اور دوسرے اس لئے کہ خون نجاست غلیظہ ہے اور نجس اشیاء کا استعمال جائز نہیں لہٰذا عام حالات میں اس سے احتراز ضروری ہے۔
البتہ علاج اور دواء کے طور پر حالت اضطرار میں اس کا استعمال بلاشبہ جائز ا ور درست ہے اور حالت اضطراری سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ شدید ہو اور کوئی دوسری دواء اس کی جان بچانے کیلئے مؤثر یا موجود نہ ہو اور خون دینے سے اس کی جان بچ جانے کا ظن بھی غالب ہو، چنانچہ ان شرائط کے ساتھ خون دینا شرعاً جائز اور درست ہے اور اس صورت میں خون دینا انشاء اللہ موجب اجر و ثواب ہوگا، بشرطیکہ خون دینے والا اس کی قیمت وصول نہ کرے جو کہ اس کیلئے لینا جائز نہیں اور ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے بلڈ بینک کی بھی بقدر ضرورت گنجائش دی جاسکتی ہے۔ ٭
٭ قال اللہ تعالٰی: ﴿ولقد کرمنا بنی اٰدم﴾۔
وإیضًا قال تعالٰی: ﴿لقد خلقنا الإنسان فی احسن تقویم﴾ وفی الھدایۃ: ولا یجوز بیع شعور الإنسان والانتفاع بہ۔ لان الآدمی مکرم لا مبتذل فلا یجوز ان یکون شی من اجزائہ مُھانا مبتذلا وقد قال علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ‘‘ وانّما یجوز فیما یتخذ من الوبر فیزید فی قرون النساء وذوائبھنّ۔ (ج۳، ص۵۵) ومثلہ فی الرّد: ج۴، ص۱۴۵)۔
وفی الھندیۃ: الانتفاع بأجزاء الآدمی لم یجز۔ اھ (التداوی: ج۵، ص۳۵۴)۔
وفیھا أیضًا: مضطر لم یجد میتۃ وخاف الھلاک فقال لہ رجل اقطع یدی وکُلھا او قال إقطع منی قطعۃ وکلھا لا یسعہ ان یفعل ذلک ولا یصح أمرہ بہ کما لا یسع للمضطرّ ان یقطع قطعۃ من نفسہ فیأکل کذا فی فتاوی قاضیخان۔ اھـ (الحظر والاباحۃ باب التداوی: ج۵، ص۳۱۰، ومثلہ فی اکراہ البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ ج۶، ص۱۱۶، ومثلہ فی خلاصۃ الفتاویٰ: ج۲، ص۳۳)۔
وفی شرح السیر الکبیر: والآدمی محترم بعد موتہ علی ما کان علیہ فی حیاتہ فکما لا یجوز التداوی بشی من الآدمی الحی اکرامًا لہ فکذالک لا یجوز التداوی بعظم المیت قال رسول اللہ ﷺ ’’کسر عظم المیت ککسر عظم الحی‘‘۔ اھـ (ج۱، ص۹ طبع دکن)۔
وقال ابن الھمام فی توضیح بعض المسائل: أن الاتفاق علی أن حرمۃ المسلم میتا کحرمتہ حیّا۔ اھـ
٭ وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ: یجوز نقل بعض أعضاء الانسان لآخر کالقلب والعین اذا تاکّد الطبیب المسلم الثقۃ العدل موت المنقول عنہ، لان الحی افضل من المیت وتوفیر البصر أو الحیاۃ لانسان نعمۃ عظمٰی مطلوبۃ شرعًا۔ اھـ (تشریح البجثث ونقل الاعضاء: ج۳، ص۵۲۲)۔
٭ ونجس العین لا یجوز بیعہ اھانۃ لہ ویجوز الانتفاع بہ للخرز للضرورۃ لان غیرہ لا یعمل عملہ (الی قولہ) فلا ضرورۃ الی البیع (الھدایۃ) وفی فتح القدیر تحتہ (وھو) ای شعر الخنزیر (یوجد مباح الاصل فلا ضرورۃ الی البیع) فلم یکن بیعہ فی محل الضرورۃ حتی یجوز وعلی ھذا قال الفقیہ ابو اللیث فلو لم یوجد الا بالشراء جاز شراءہ لشمول الحاجۃ الیہ۔ (ج۵، ص۲۰۲ ملخصا)۔
ویجوز للعلیل شرب الدم والبول واکل المیتۃ للتداوی اذا اخبرہ طبیب مسلم أن شفاءہ فیہ ولم یجد من المباح ما یقوم مقامہ وان قال الطبیب یتعجل شفاءک ففیہ وجھان۔ (الھندیۃ: ج۴، ص۱۱۲) واللہ اعلم بالصواب