کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیا ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اگر یہ صحیح ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟ اگر صحیح نہیں تو وجہ بیان فرمادیں۔ نوازش ہوگی۔
ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنے کی کئی صورتیں ہیں جن میں سے اس صورت کی کہ خاوند کا مادہ تولید لیکر اس کی بیوی کے رحم میں رکھا جائے، گنجائش معلوم ہوتی ہے مگر اس میں بھی یہ شرط ہے کہ عورت کے رحم میں مرد کا مادۂ تولید رکھنے کیلئے آپریشن کسی مرد ڈاکٹر سے ہرگز نہ کرایا جائے بلکہ کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر کے ذریعہ یہ عمل کیا جائے اور اس میں بھی بقدرِ ضرورت ستر کھولا جائے، ضرورتِ شدیدہ سے زائد ستر کھولنا جائز نہیں اس سے احتراز کیا جائے۔
تاہم واضح ہو کہ مذکورہ بالا طریقہ کو اختیار کرنے کی گنجائش اس وقت دی جاسکتی ہے جبکہ عمل فطری کارگر نہ ہو کیونکہ یہ ایک غیر فطری عمل ہے جس سے احتراز بہرحال ضروری ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم