کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ، اگر میں دن میں دس بار بھی بیت الخلاء جاتا ہوں ، تو دس بار فارغ ہونے کے بعد قطرات ضرور ٹپکتے ہیں، اس صورتِ حال میں کیا مجھ پر دس بار غسل فرض ہے یا میں شریعت سے رخصت کا حقدار ہوں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔
پیشاب سے پہلے یا بعد میں آنے والے مذکو رگاڑھے سفید قطرات ’’ودی‘‘ کہلاتے ہیں،جو بعض جسمانی بیماریوں کی وجہ سے آتے ہیں، اور ان کے علاج کی ضرورت ہے، تاہم ان کے خروج سے فقط وضو ٹوٹتا ہے، غسل لازم نہیں ہوتا ، لہٰذا ان قطرات کے بعد صفائی حاصل کر کے وضو کرنے کے بعد نماز اور دیگر عبادات وغیرہ بجا لا سکتے ہیں۔ واللہ أعلم بالصواب!