وضو

محض شک سے کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

فتوی نمبر :
1052
| تاریخ :
2005-12-07
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

محض شک سے کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

نماز میں بہت شک ہوتا ہے کہ وضو ٹوٹا کہ نہیں؟ گیس کی بیماری ہے ، لیکن شرعی معذور بھی نہیں ہوں، میں نے علاج بھی کرایا ہے ، لیکن بات نہیں بنتی کیا کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا ،جب تک کہ وضو کے ٹوٹنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو جائے، لہٰذا شک کی طرف توجہ کیے بغیر اپنی نماز پڑھتے رہیں، اور اس بیماری سے نجات کے لیے تیسری کلمہ کا بکثرت وظیفہ رکھنا بھی مفید ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين اھ (1/ 150)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن اھ (1/ 151)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی محمد اسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1052کی تصدیق کریں
0     674
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات