السلام علیکم! مجھے ایک ای میل ملی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید میں ۲۰ مقامات ایسے ہیں جہاں پڑھنے سے کفر سرزد ہو جاتا ہے، اور اس میں بتایا ہے کہ کفر کا مطلب ہے کہ آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اور جب تک دوبارہ کلمہ نہ پڑھے اس کی کوئی عبادت قبول نہ ہوگی، براہ کرم اس کے بارے میں وضاحت فرمائیں کہ کیا واقعی ایسا ہو جاتا ہے کہ ان مقامات پر غلط پڑھنے سے آپ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں؟ اس ای میل کی attachment لگا رہا ہوں۔ تو attachment فائل دیکھیں۔ اللہ حافظ!
اس کا مطلب یہ ہے کہ قصداً اور دل کے ارادے سے اگر ایسا کر لیا جائے تو کفر متحقق ہو جاتا ہے ۔ اس لئے صحت کے ساتھ تلاوت قرآن کا اہتمام کرنا چاہیے، یہ مطلب نہیں کہ اگر غلطی سے ایسا ہو گیا تو تب بھی کفر لازم ہو جائے گا اور آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ لہذا مذکور خوف سے تلاوت قرآن نہ چھوڑنا چاہیئے۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 1