اگر مقلد کو کسی مسئلہ میں اپنے مقتدا مجتہد کے مذہب کے خلاف کوئی راجح مذہب معلوم ہو تو مجتہد کے تقلید سے نکل کر راجح مذہب پر عمل کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ تقلید مطلق اور تقلید شخص واجب لذاتہٖ نہیں ہیں، اصل مقصود تو اللہ اور رسول کی اطاعت ہے، اُردو میں جواب دیجیے۔
’’إتبع سبیل من أناب إلی‘‘، ’’فاسئلوا اہل الذکر إن کنتم لا تعلمون‘‘ اور ’’اطیعو اللہ واطیعو الرسول وأولالأمر منکم‘‘ وغیرہ نصوص کی بناء پر مطلقاً تقلید فرض ہے، جبکہ خواہشات نفسانیہ کے اتباع اور دین کو کھلونا بنانے سے بچانے کیلیے تقلیدِ شخص واجب ہے، اس کے بعد واضح ہوکہ جس شخص کو اپنے مذہب کے مخالف کوئی بات راجح معلوم ہوئی وہ عالم ہے یا جاہلِ مطلق؟ اور رجحان کسی دلیل سے ناشی ہے یا طبعی یا کسی کی باتیں سن کر پیدا ہوا؟ اور اس کے مقابل کوئی دوسری دلیل ہے یا نہیں؟ چونکہ ان تمام حالات میں حکم مختلف ہوتا رہتاہے، اس کے لیے مبہم سوال کرنے کی بجائے وضاحت سے سوال کیا جائے، اور جس مسئلہ میں ایسا ہواہے، اس کی بھی وضاحت کی جائے، تو اس پر غور کیا جاسکتاہے اور اگر ویسے ہی تحقیق مطلوب ہو تو (۱) الاقتضاد فی التقلید والاجتہاد (اردو) حضر مولانا اشرف علی تھانویؒ (۲) الکلام المفید (اردو) شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ۔ (۳) تقلید کی شرعی حیثیت، حضرت مولانا محمد تقی عثمانی زید مجدہم وغیرہ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب!