کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ زید سعودیہ عرب میں کسی امام کے پیچھے نماز اور نمازِ جمعہ نہیں پڑھتا، بلکہ گھر میں پڑھتا ہے ، سعودیہ عرب کے عقائد زید کے عقائد سے مختلف ہیں ، زید حنفی مسلک اہلِ سنت و الجماعت سے تعلق رکھتا ہے ، حدیث میں آیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ مسلسل تین جمعے چھوڑنے پر اللہ اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیتا ہے۔
ائمہ حرمین شریفین کی اکثریت امام احمد بن حنبلؒ کے پیروکار ہیں ، اور وہ اہلِ سنت و الجماعت میں داخل ہیں ، اور حنفی المسلک شخص کا ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے، اس لۓ بلا وجہِ شرعی ان کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنا اور جماعت اور جمعہ کی نماز ترک کرناجائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے ، ورنہ سوال میں مذکور حدیث کے زمرہ میں آسکتا ہے۔
فی حاشية ابن عابدين : و الذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض ، لأن كثيرا من الصحابة و التابعين كانوا أئمة مجتهدين و هم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم اھ (1/ 564)۔
وفیها أیضا : أن المذهب عدم تكفير أحد من المخالفين فيما ليس من الأصول المعلومة من الدين ضرورة إلخ فافهم اھ (1/ 561)۔
و فی سنن أبي داود : عن أبي الجعد الضمري ، و كانت له صحبة ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : «من ترك ثلاث جمع تهاونا بها، طبع الله على قلبه» اھ (1/ 277)۔