کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی عالم (جہاں اہل حدیث اور احناف مذہب کے ماننے والے بھی ہیں) بیان کرتے ہوئے یہ کہے کہ چار مذہب ماننا ضروری ہے،یہ بات کبھی کسی نے کہا نہیں،ہاں معاشرے میں اس کی تفصیلی وضاحتیں ہیں،کیا یہ کہنا صحیح ہے؟
چاروں مذاہب کو ضروری ماننے کا مطلب اگر یہ ہوکہ چاروں ائمہ کرام رحمھم اللہ کے مذاہب کو برحق مانا جائےتو یہ بات بلاشبہ درست ہے۔
کمافی فيض القدير: ويجب علينا أن نعتقد أن الأئمة الأربعة والسفيانين والأوزاعي وداود الظاهري وإسحاق بن راهويه وسائر الأئمة على هدى ولا التفات لمن تكلم فيهم بما هم بريئون منه والصحيح وفاقا للجمهور أن المصيب في الفروع واحد ولله تعالى فيما حكم عليه أمارة وأن المجتهد كلف بإصابته وأن مخطئه لا يأثم بل يؤجر فمن أصاب فله أجران ومن أخطأ فأجر نعم إن قصر المجتهد أثم اتفاقا وعلى غير المجتهد أن يقلد مذهبا معينا (1/ 210)۔