کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ کیا تقلید نہ کرنا گناہ ہے ؟ اور تقلید کرنا واجب ہے یا فرض؟
۲۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول کے مخاطب کہ ’’تم میرا کوئی قول حدیث کے مخالف پاؤ تو اس کو چھوڑدو‘‘ صرف مجتہد کیوں ہیں؟ عام آدمی اس کا مخاطب کیوں نہیں ہو سکتا ؟
۱۔ ایک عامی کے لۓ دینی مسائل میں علماء اور ائمہ کی تقلید کرنا بحکمِ قرآن ’’فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ وغیرہ فرض اور اس پر عمل خود دورِ صحابہ و تابعین کے زمانے سے متوارث ہے ، اس کے خلاف کرنا حکمِ خداوندی کے خلاف ہو نے کی وجہ سے ناجائز اور سلفِ صالحین پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔
۲۔ چونکہ عامی نہ تو حدیثوں پر عبور رکھتا ہے اور نہ ناسخ و منسوخ اور تعارض سے واقف ہوتا ہے اور نہ ہی سند کی صحت و ضعف کے اصول سے اور اصول و شرائطِ اجتہاد سے، اس لۓ امام صاحب رحمہ اللہ کے مذکور قول کے مخاطب وہ حضرات ہیں جن کے اندر اجتہاد کی شرائط موجود ہوں۔
فی الھداية : لان علی العامی الاقتداء بالفقھاء لعدم الاھتداء فی حقہ إلی معرفة الحدیث اھ(1/226)۔
و فی الدر : علی أن الواجب علی المقلد العمل بقول المجتھد و ان لم یظھر دلیله اھ(3/210)۔
و فی عقد الجید فی احکام الاجتھاد و التقلید : اعلم أن فی الأخذ بھذہ المذاھب الأربعة مصلحة عظیمة و فی الاعراض عنھا کلھا مفسدۃ کبیرہ و نحن نبین ذلك بوجوہ اھ(ص37)۔
و فی حجة اللہ البالغة : انما یتم فیمن له ضرب من الاجتھاد و لو فی مسئلة اھ(1/155)۔