کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص حنفی مسلک کو چھوڑ کر اہلحدیث کا مسلک اختیار کرلے کیا یہ شخص گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔
کسی مقلد کیلئے (خواہ وہ حنفی ہو یا شافعی وغیرہ) قطعاً جائز نہیں کہ وہ دلائل شرعیہ سے قطع نظر کرتے ہوئے محض خواہشاتِ نفسانیہ کی بناء پر کسی دوسرے مسلک کو اختیار کرے، اور جس مسلک میں اپنا مفاد نظر آئے اسے اختیار کرلے، اس لئے کہ اپنی خواہشات اور مفاد کے تابع ہوکر کبھی کسی کا اور کبھی کسی کا مذہب اختیار کرلینا باجماعِ امت حرام ہے۔
لہٰذا سوال میں مذکور شخص کا مسلکِ حنفی چھوڑ کر غیر مقلدین کے مسلک کو اپنانا اگر تین طلاقوں یا اس قسم کے کسی اور نفسانی مفاد حاصل کرنے کی بنیاد پر ہے، جیسا کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ تین طلاقوں کے مسئلہ میں مسلکِ غیر مقلدین کو محض اس وجہ سے اختیار کرلیتے ہیں کہ اس سے بیوی تین طلاقوں سے بچ جائے گی اور نکاح اپنے حال پر برقرار رہے گا، تو جاننا چاہئے کہ جس چیز کو شریعتِ مطہرہ نے ناجائز اور حرام قرار دیا ہے وہ مسلک بدلنے سے حلال نہیں ہوجاتی، اسی طرح جن امور کو جائز اور حلال قرار دیا ہے وہ مسلک بدلنے سے حرام نہیں ہوجاتے، جبکہ جس مسلک کو اختیار کیا جارہا ہے ،علمی اعتبار سے درست بھی نہیں لہٰذا اس قسم کی مسلکی تبدیلی سے احتراز لازم ہے۔
وقد نص الامام احمد وغیرہ علٰی أنہ لیس لأحد أن یعتقد الشئی واجبًا أو حراما، ثم یعتقدہ غیر واجب أو محرم بمجرد ھواہ (الٰی قولہ) فمثل ھذا ممن یکون فی اعتقادہ حل الشیٔ وحرمتہ ووجوبہ و سقوطہ بسبب ھواہ ھو مذموم مجروح خارج عن العدالۃ وقد نص احمد وغیرہ علٰی أن ھذا لا یجوز۔ اھـ (فی الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیۃؒ: ج۲، ص۲۳۷، مطبوعہ مصر) واﷲ اعلم