میرے ایک دوست نے کہا کہ ہمیں امام ابوحنیفہؒ کی تقلید کیوں کرنی چاہیے؟ ہم صرف قرآن و حدیث کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟ اگر قرآن و حدیث کی تشریح ضروری ہوتی تو ہم نبی کریم ﷺ کے چار اصحاب میں سے کسی ایک کی تقلید کرتے، ہم کسی ایک صحابی کی تقلید کیوں نہیں کرتے اور کس نے کہا ہے کہ چاروں مذاہب میں سے کسی ایک کی اتباع کرنا ضروری اور درست ہے؟
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کے بعض احکام تو وہ ہیں جو اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں اور ان میں کسی قسم کا اجمال و ابہام نہیں پایا جاتا اور اس کے معارض کوئی دوسری آیت یا حدیث بھی نہیں، جیسے شراب کا حرام ہونا، نماز کا فرض ہونا وغیرہ کے احکام یا عقائد سے متعلق اوامر ان میں نہ تو اجتہاد کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی کی تقلید کی ضرورت ہے، اور بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جن میں اجمال پایا جاتا ہے ان کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض میں تعارض ہوتا ہے جس کو ختم کرنے کیلیے تطبیق یا ترجیح کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض ایسے احکام بھی ہوتے ہیں جو صراحت کے ساتھ قرآن و سنت میں مذکور نہیں ہوتے، ان کو معلوم کرنے کے لیے اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے، اس قسم کی نصوص و مسائل میں اہل علم کی طرف مراجعت کا حکم خود قرآن و سنت میں مذکور ہے اور سلف صالحین کے دور سے اس پر عمل در آمد جاری ہے، جبکہ ائمہ اربعہ سے قبل کسی صحابی وغیرہ نے اس قسم کے احکام کو مدوّن و مرتب نہیں کیا اور ان ائمہ کا مجتہد اور قابلِ اعتماد ہونا تمام امت کے ہاں مسلَّم رہا ہے، اس لیے ان کی تشریحات اور اجتہادی مسائل کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ان میں سے کسی ایک کی اقتداء کو اس لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے تاکہ دین کو اپنی اغراضِ فاسد پورے کرنے کا ذریعہ اور دین کو کھلونا نہ بنالیا جائے کہ کبھی کس سے اپنا مقصد نکالیں اور کبھی کس سے، تفصیل کیلیے ملاحظہ ہو ’’تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ (مؤلفہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی) اور ’’الکلام المفید‘‘ (مؤلفہ مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ)
کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿فَاسْئَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ (سورۃ النمل: ۴۳۔ سورۃ الانبیاء: ۷) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!