میں نے اپنے ایک دوست کو چار ہزار روپے بطورِ قرضِ حسنہ دیے ہیں، جو انہوں نے اپنے کاروبار میں لگائے ہیں، اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ جب میں آپ کو آپ کی رقم واپس کروں گا ،تو کچھ زائد رقم بھی دونگا جو آپ کا حق بنتا ہے، کیونکہ میں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کسی مفتی صاحب سے سنا تھا کہ جب کوئی کسی سے قرض لے ،تو اس کی اصل رقم سے زائد دیں۔ جبکہ میری جانب سے اس منافع کا کوئی مطالبہ نہیں تھا ،کیونکہ اس نے کاروبار کرنا تھا، اور اسے کوئی مجبوری نہیں تھی، لہذا میں راضی ہو گیا جب کہ میری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں ، اب آپ سے سوال ہے کہ کیا میں اس سے منافع ( جو کہ پہلے سے طے نہیں پایا ہو ) لے سکتا ہوں یا یوں کہ اب میرا اس زائد رقم کو لینا جائز ہے یا سود؟ اگر بینک میں رکھوں تو سود کا ڈر اور اگر کسی کو دوں تو وہ فائدہ اٹھاتے ہیں ,تو اپنے مال سے ہم کو بھی تو کچھ ملے جو کہ نہ تو سود ہو نہ حرام ؟
اگر کوئی شخص بغیر کسی شرط کے قرض لے، اور پھر حسن التقاضی کے طور پر زائد لوٹا دے ،تو یہ دینے والے کی طرف سے احسان کا بدلہ ہے، مگر صورتِ ِمسئولہ میں قرض دیتے وقت اگرچہ سائل کی طرف سے زائد رقم کی شرط نہیں تھی، لیکن نیت و ارادہ زائد رقم لینے کا تھا، جیسا کہ قرض لیتے وقت سائل کے دوست نے اس کو وضاحت سے بتایا تھا، اس لئے یہ زائد رقم مشروط ہوئی ،اور یہ شبہ ربا سے خالی نہیں۔ اس بناء پر اس کا لینا بھی جائز نہیں ،اس لئے سائل کو اس سے احتراز لازم ہے۔ جبکہ سائل اگر اپنے پیسوں سے نفع کمانا چاہتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی رقم کسی عزیز یا دوست وغیرہ کے ساتھ تجارت میں لگائے اور یہ لگانا مشارکہ یا مضاربہ کی بنیاد پر ہو تو اس سے جو نفع حاصل ہوگا وہ شرعاً جائز بھی ہوگا۔
كما قال الله تعالى: و احل الله البيع و حرم الربوا (البقرة: ۲۷۵)۔
و في جامع الترمذى: عن أبى هريرة قال استقرض رسول الله ﷺ سنا فاعطى سنا خيراً من سنه و قال خيار كم احاسنكم قضاء اھ (۱/٢٤٥) ۔
و في الشامية: تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة و إن لم يكن النفع مشروطا في القرض فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ(٥ / ۱۶۶)۔
و في الهندية: قال محمد رحمه الله تعالى في كتاب الصرف أن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا كانت المنفعة مشروطة في العقد (إلى قوله) فان لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به اھ (۳/ ۲۰۲)۔
وفي البحر الرائق: و لا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة فان قضاه أجود بلا شرط جاز اھ (۶/۱۲۲)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0