اگر قبر کے اندر میت رکھتے وقت میت کا منہ کھلا رہ جائے اور باوجود کوشش کے بند نہ ہو تو ایسے ہی دفن کر دیا ہو تو کیسا ہے شریعت میں؟
میت کا منہ بند کرنا مسنون و مستحب ہے،اس لئے اس کا اہتمام کرنا چاہیے البتہ اگر باوجود کوشش کے منہ بند نہ ہو اور ویسے ہی دفن کر دیا جائے تو اس میں حرج نہیں۔
وفى الفتاوى الهندية: فإذا مات شدوا لحييه وغمضوا عينيه ويتولى أرفق أهله به إغماضه بأسهل مما يقدر عليه ويشد لحياه بعصابة عريضة يشدها في لحيه الأسفل ويربطها فوق رأسه،كذا في الجوهرة النيرة. اھ (1/ 157)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله تحسينا له) إذ لو ترك فظع منظره ولئلا يدخل فاه الهوام والماء عند غسله اھ (2/ 193)