وضو

باریک جرابوں پر مسح کرنا

فتوی نمبر :
1452
| تاریخ :
2005-11-14
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

باریک جرابوں پر مسح کرنا

السلام علیکم!
حضرت! میں قطر میں نوکری کرتا ہوں ، مجھے ایک مسئلہ کے سلسلہ میں آپ کی راہ نمائی کی ضرورت ہے، اگر ہو سکے تو جلد جواب عنایت فرما دیجیےگا۔
مسئلہ : جیساکہ آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں دوحہ قطر میں نوکری کرتا ہوں ، اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ یہاں نماز کے لۓ آئے لوگ اکثر وضو کرتے وقت جراب (socks) اتارے بغیر وضوکرتے ہیں اور یہ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ، صرف سستی کی وجہ سے ہے ، کبھی کبھی تو جوتے (shoes) بھی نہیں اُتارتے ، اس پر صرف پانی کا گیلا ہاتھ لگا لیتے ہیں ، اس لۓ آپ کی راہ نمائی درکار ہے ،کس صورت میں اس طرح کرنے کی اجازت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مروّجہ جرابوں پر تو مسح کرنا شرعاً جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اونی ، سوتی موزے اور جرابیں اگر اس قدر موٹی ہوں کہ اس کو پہن کر جوتے کے ، بغیر تین میل پیدل چلیں تو تب بھی نہ پھٹیں ، اور پنڈلی پر بغیر کسی چیز کے باندھے قائم رہ سکیں اور اس میں پانی نہ چھنتا ہو ،تو یہ چمڑے کے موزوں کے حکم میں ہونگے اور ان پر مسح کرنا جائز ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (أو جوربيه) و لو من غزل أو شعر (الثخينين) بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق و لا يرى ما تحته و لا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الغرض الخ و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و لو من غزل أو شعر) دخل فيه الجوخ كما حققه في شرح المنية . و قال : و خرج عنه ما كان من كرباس بالكسر : و هو الثوب من القطن الأبيض ؛ و يلحق بالكرباس كل ما كان من نوع الخيط كالكتان و الإبريسم و نحوهما اھ (1/ 269)۔
و فی التاتارخانیة : أما المسح علی الجورب فلا یخلوا أن یکون الجورب رقیقاً غیر منعل و فی هذا الوجه لا یجوز المسح بلا خلاف اھ (۱/ ۲۶۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بہادر علی سرور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1452کی تصدیق کریں
0     606
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات