السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ قرآن پاک میں ہے جس کا مفہوم ہے ’’اور قتال کرو اس وقت تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور دین سارا کا سارا اللہ کا ہوجائے‘‘۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ شیعہ، قادیانی وغیرہ فتنہ جو ہیں آپ لوگ یعنی علمائے حق ان کے قتال کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ اور مزید یہ کہ جمہوریت جو کہ دینِ ابلیس اور یقیناً بڑے فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے تو اس کے خلاف لڑنے کی شرعی حیثیت بتادیں۔
مذکور فرقوں کے فتنہ ہونے میں تو کوئی شک نہیں، مگر اس قسم کے فتنوں کا سدِّ باب اہلِ علم دلیل اور حجت سے کرسکتے ہیں اور وہ اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں، جہاں تک اس قسم کے لوگوں کو قتل کرنے کا تعلق ہے تو یہ حکومتِ وقت کا کام ہے، علماءِ حق کی ذمہ داری نہیں۔
باقی رہا جمہوریت کو فتنہ اور ’’دین ابلیس‘‘ قرار دینے کا معاملہ تو اولاً یہ جاننا چاہیے کہ جمہوریت اکثریتی پارٹی کی حکومت کا نام ہے اور یہ لازمی نہیں کہ وہ پارٹی غلط ہی ہوگی یا غلط ہی نظام چلائے گی، بہرکیف یہ ایک تحقیقی موضوع ہے جس پر غور کی ضرورت ہے اور اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ دین ابلیس ہے تو ہر فتنہ کا علاج محض قتل کرنا نہیں، بلکہ اور بھی طریقہائے کار ہیں اور اس کے مقابلہ میں ہر دین حق کے نفاذ کیلیے کوشش کرنا اور اس کیلیے ماحول کو سازگار بنانا اور جو لوگ اس میدان میں ہیں ان کی معاونت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری اور فرض ہے اور صاحب اقتدار لوگوں پر اس کا نفاذ لازم ہے۔
ففی اعلاء السنن: عن ابی سعید مرفوعًا: من رایٰ منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطیع فبلسانه فان لم یستطع فبقلبه وذٰلك أضعف الإیمان ’’رواہ مسلم‘‘ وقال تحته: قلت ولم یقل أحد انه أی قتال الکفار یجب بدون الامام فالأستطاعة الشرعية هی القدرة علی الفعل مع الأمن عن ترتب الفتنة عن مقاومتها ومدافعتها علیه عادة اھ (ج۱۲، ص۶۰۵)
وفی المرقاۃ: عن ابی سعید قال: قال رسول اللہ افضل الجهاد من قال کلمة عند سلطان جائر۔ قال تحت هذا الحدیث، وقال الشیخ ابو حامد فی الأحیاء الأمر بالمعروف مع السلطان التعریف والوعظ ، واما المنع بالقهر فلیس ذٰلك لاِحاد الرعية لان ذٰلك یحرك الفتنة ویھیج الشر ویکون ما یتولد منه من المحذور اکثر۔ اھـ (ج۷، ص۲۸۱، ۲۸۲) واللہ اعلم بالصواب!