میرا سوال یہ ہےکہ میں نے سوشل (سماجی) ویب سائٹ پر اخبار ضرب حق کی ایک خبر دیکھی جس میں مفتی محمد تقی عثما نی صاحب سے منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے شفاء کے حصول کے لیے پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنے کو جائز قرار دیا ہے ،مجھے یہ دیکھ کر کافی حیرت ہوئی ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اس بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح فرمائیں۔
پیشاب سے سورۃ فاتحہ یا قرآن کریم کی کوئی دوسری سورت یا آیت لکھنا سخت ناجائز اور حرام ہے، اس سے احتراز لازم ہے، جہاں تک مولانا محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی طرف اس کے جواز کی نسبت کا تعلق ہے وہ درست نہیں، بلکہ خود مولانا نے بھی اس کی تردید فرمائی ہے ۔ اس لئے بلا وجہ کسی کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ سے احتراز لازم ہے۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0