اگر کسی عورت کے محرم کا انتقال ہو جائے ارکان حج سے پہلے، مثلاً منیٰ جانے سے پہلے تو کیا وہ عورت بغیر محرم کے منیٰ جاسکتی ہے ارکانِ حج کو پورا کرنے کے لئے؟ اگر محرم شوہر ہو تو وہ کیا کرے گی ؟ اور اگر ارکانِ حج کے دوران انتقال کر جائے تو وہ حج کے ارکان ادا کرے یا پھر چھوڑ دے ؟
شوہریا محرم کے مرنے کی صورت میں اگر مکہ اور اس جگہ جہاں انتقال ہوا ہے، کے درمیان مسافتِ سفر سے کم ہو تب بھی وہ ارکانِ حج ادا کر سکتی ہے ورنہ وہ محصرہ شمار ہوگی ۔
کما فی الہندیة : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة اھ (1/218)۔
و فیھا أیضاً : وإذا مات محرم المرأة في الطريق وبينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا فهي بمنزلة المحصر، اھ (1/255)۔