احکام حج

ارکانِ حج سے قبل خاتون کے محرم کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہوگا ؟

فتوی نمبر :
15314
| تاریخ :
2012-05-15
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

ارکانِ حج سے قبل خاتون کے محرم کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہوگا ؟

اگر کسی عورت کے محرم کا انتقال ہو جائے ارکان حج سے پہلے، مثلاً منیٰ جانے سے پہلے تو کیا وہ عورت بغیر محرم کے منیٰ جاسکتی ہے ارکانِ حج کو پورا کرنے کے لئے؟ اگر محرم شوہر ہو تو وہ کیا کرے گی ؟ اور اگر ارکانِ حج کے دوران انتقال کر جائے تو وہ حج کے ارکان ادا کرے یا پھر چھوڑ دے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شوہریا محرم کے مرنے کی صورت میں اگر مکہ اور اس جگہ جہاں انتقال ہوا ہے، کے درمیان مسافتِ سفر سے کم ہو تب بھی وہ ارکانِ حج ادا کر سکتی ہے ورنہ وہ محصرہ شمار ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة اھ (1/218)۔
و فیھا أیضاً : وإذا مات محرم المرأة في الطريق وبينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا فهي بمنزلة المحصر، اھ (1/255)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 15314کی تصدیق کریں
0     464
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات