فسق و فجور

سادات کے ساتھ طنز و مذاق اور گالم گلوچ کرنا

فتوی نمبر :
16889
| تاریخ :
2020-10-26
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / فسق و فجور

سادات کے ساتھ طنز و مذاق اور گالم گلوچ کرنا

سید آل رسول ہیں، تو کیا ان کا ادب اور احترام لازم ہے ؟اور کوئی شخص سید ذات کو مذاق اور طنز کا نشانہ بنائے یا غصہ کی حالت میں سیدوں کو گالی دے یامغلظات بول دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سیدوں کا آلِ رسول ہونے کی وجہ سے ادب واحترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے، ان کو تکلیف دینا آپ ﷺ کو تکلیف دینے کے مترادف ہے ، البتہ دنیا وی معاملات میں ان سے اختلاف کرنا یا تنازعہ پیداہونا، اگر چہ بے ادبی کی بات نہیں، مگر اس دوران بھی طعن و تشنیع سے کام لینا انہیں اپنی مغلظات کا نشانہ بنانا قطعاًجائز نہیں ۔اس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی المعجم الكبير: عن ابن عباس قال : قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : يا بني عبد المطلب إني سألت الله لكم ثلاثا سألته أن يثبت قائمكم ويعلم جاهلكم ويهدي ضالكم وسألته أن يجعلكم جوداء نجداء رحماء فلو أن رجلا صفن صفن بين الركن والمقام وصلى وصام ثم مات وهو مبغض لأهل بيت محمد صلى الله عليه و سلم ورضي عنهم دخل النار اھـ- (11 / 176)
وفی صحيح البخاري: عن زبيد قال سألت أبا وائل عن المرجئة فقال حدثني عبد الله أن النبي قال سباب المسلم فسوق وقتاله كفر- (1 / 29)
فی رسائل ابن عابدین : عن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ قال اقبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم حجۃ الوداع فقال انی فرطکم علی الحوض و انکم تبعی و انکم تشکون ان تردوا علی الحوض فاسالکم عن ثقلی کیف خلفتمونی فیھما فقام رجل من المھاجرین فقال ماالثقلان قال الاکبرمنھما کتاب اللہ طرفہ بیداللہ وطرفہ بایدکم فتمسلوا بہ الاصغر عترتی فمن استقبل قلبتی و اجاب دعوتی فلیستوص بھم خیراً فلا تقتلوھم ولاتقھروھم ولاتقصروا عنھم و انی سالت لھم اللطیف الخبیر ان یرادوا علی الحوض کتین او قال کھاتین و اشار بالمسبحتین (ج1ص514)
وفیہ ایضاً : عن عبد اللہ بن جابر رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول یا بنی ھاشم انی قد سالت اللہ عزوجل ان یجعلکم ۔۔۔۔رجبا وسالتہ ان یھدی ضالکم و یومن خائفکم و یشبع جائعکم (ج1ص5)
وفیہ ایضا : عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سالت ربی ان لایدخل النار احدمن اھل بیتی فاعطانی ذالک ۔
وفیه ایضا: عن علی رضی اللہ عنه قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم یا معشر بنی ھاشم اولذی بعثنی بالحق نبیا لو اخذت بحلقة الجنة مابدات الابکم وعن ابن عباس رضی اللہ عنہ قل رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم لفاطمة رضی اللہ عنھا ان اللہ عز وجل غیر معذبك ولا ولدك۔ وعن عمر رضی اللہ عنه عن النبی صلی اللہ عليه و سلم فال کل سبب و نسب منقطع یوم القیامة الا سببی ونسبی وکل ولد آدم فان عصبتھم لابیھم ماخالا ولد فاطمة فانی انا ابوھم وعصبتھم ۔ (ج1ص514) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبد اللہ شبیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16889کی تصدیق کریں
1     1811
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گناہ کا خیال دل میں ہوتے ہوئے گناہ نہ چھوڑنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   فسق و فجور 0
  • سادات کے ساتھ طنز و مذاق اور گالم گلوچ کرنا

    یونیکوڈ   فسق و فجور 1
  • کسی مسلمان پر قادیانی ہونے کی تہمت لگانا

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
  • عالم دین کو گالی دینے کا حکم

    یونیکوڈ   فسق و فجور 4
  • کیا ہندی ڈرامے دیکھنے سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
  • قابل قدر واحترام شخصیات کی بے ادبی کا حکم

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
  • کسی مسلمان کو گالی دینا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   فسق و فجور 1
  • مسجد کے امام کو محلہ کا خدمت گار و تنخوا ہ دار جیسے القاب سے پکارنا

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
  • مشت زنی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
  • خواتین کے ناجائز امور کے ارتکاب پر مرد کیا کرسکتاہے

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
  • مردہ خاتون کو چوڑیاں پہناکر توڑنےکی رسم کا حکم

    یونیکوڈ   فسق و فجور 0
Related Topics متعلقه موضوعات