جناب میری شادی 2018 کے اختتام سے ہوئی ہے، اس دن سے آج تک میرا شوہر مسجد نہیں گیا ہے نہ نماز پڑھی نہ ہی صدقہ نہ ہی کوئی دوسرا حق نہ ہی اس سے معلوم ہے ، جب میں نے آخری بار قرآن مجید پڑھی تھی، اس کو اسلام کے بارے میں معلومات نہیں ہے نہ ہی دنیوی امور کے بارے میں یہاں تک کہ وہ میری مالی ضروریات کو بھی پور انہیں کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی وہ متعدد بار دوسرے افراد کے ساتھ ہماری انتہائی ذاتی گفتگو کا انکشاف کرتا ہے، تاکہ توجہ اور احترام حاصل کیا جاسکے، کہ میں بہت متقی ہوں، جب میں اس سے اسلام کے بارے میں کوئی کام کرنے کا کہتی ہوں ، تو اس نے کہا کہ اسلام میں ہیرا پھیری کرنا ایسا نہیں ہے، اس کا مطلب غیر قبول اور اس نے مجھے بہت چھیڑا اوراسکی عمر 45 سال ہے، لیکن ایسی ضد ی اور احمق ہے، کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی براہ مہربانی اس سلسلے میں میری مدد کرے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائلہ کے شوہر کا مذکور طرز عمل حقوق اللہ اور حقوق العباد کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آئے اور عبادات کے بجا آوری اور سائلہ کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے، مؤاخذہ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، جبکہ سائلہ کو بھی چاہیے کہ حکمت وبصیرت کے ساتھ نرمی سے اپنے شوہر کو سمجھا کر عبادت کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرے، اگر ممکن ہو تو نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھے اور کسی اللہ والے سے اس کا اصلاحی تعلق قائم کرنے کی بھی کوشش کرے، ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے باز آجائے۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، الخ (3/441)۔