السلام علیکم! کسی عالم کو گالی دینے کے بارے میں علماء کیا فرماتےہیں؟ کیا وہ گالی دینے سے کافر ہوجاتاہے؟ میرا ایک کزن ہے جوکہ تحریک انصاف سے تعلق رکھتاہے، وہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو گالیاں دیتاہے اور بعض دفعہ گالیاں دینے میں حد سے نکل جاتاہے، ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
علماء اللہ تعالیٰ کے دین کے مبلغ، ترجمان اور انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث اور نائب ہیں، اس لیے نبی کریمﷺ نے اہل علم کے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں ایک حدیث میں کہ:
(’’من أکرم عالما فقد أکرمنی، ومن أکرمنی فقد أکرم اللہ، ومن أکرم اللہ فمأواہ الجنة ، ومن أهان عالما فقد أهاننی، ومن أهاننی فقد أهان اللہ، ومن أهان اللہ فمأواہ النار‘‘)۔
(ترجمہ): جس شخص نے کسی عالم کی تعظیم اور اکرام کیا، اس نے میرا اکرام کیا، اور جس نے میرا اکرام کیا، اس نے اللہ کا اکرام کیا، اور جس نے اللہ کا اکرام کیا اللہ اُسے جنت میں داخل کرے گا اور جس نے کسی عالم کی توہین کی، اس نے میری توہین کی اور جس نے میری توہین کی، اس نے اللہ کی توہین کی اور جس نے اللہ کی توہین کی، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔ (السیوطی ج۱ ص۳)
نیز علماء کرام نے حاملین علم ہونے کی وجہ سے اہل علم کی اہانت کو کفر تک قرار دیا ہے، لہٰذا سائل کے کزن سمیت تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اہل علم کی شان میں (چاہے حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ ہوں یا کوئی دوسرا عالم) زبان درازی سے اجتناب کرے، اور اللہ ورسول کی ناراضگی مول لے کر اپنی عاقبت برباد کرنے سے احتراز کریں اور اگر کسی عالم سے کوئی سیاسی یا دنیوی اختلاف ہو تو ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا اظہار کرنا اگرچہ ممنوع نہیں، بلکہ جائز ہے، مگر اس کے لیے ایسا طرز عمل اختیار کرنا کہ دل آزاری اور گستاخی تک نوبت پہنچ جائے اور اس ضمن میں تمام اہل علم کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جائے، جیسا کہ آج کل بعض لوگوں کی عادت بن گئی ہے، کسی طرح بھی جائز اور قرین قیاس نہیں، اس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
فی صحیح مسلم: عن عبد اللہ بن مسعود - رضی اللہ عنه - قال: قال سول اللہ - ﷺ - سباب المسلم فسوق وقتاله کفر۔ اھـ (ج۱، ص۸۱)
وفي مجمع الأنهر شرح ملتقی الأبحر: وفي البزازيالأ فالاستخفاف بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم، والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود؟ اھـ (۶/۳۳۶)۔
وفي شرح الفقه الأکبر: من ٲبغض عالما من غیر سبب دنیوي، وٲخروي، فیکون بغضه لعلم الشریعة اھـ (ص:۲۱۳)۔ وفي الفتاوی الشامية: فلو بطریق الحقارۃ کفر، لأن ٳهانة أهل العلم کفر۔ اھـ (۴/۷۲) واللہ أعلم بالصواب!