جناب آپ اس معاملے پر روشنی ڈالیں کہ ایک مرد پر کیا فرائض ہیں اگر اسکی بہن یا اسکی ماں اللّٰہ کے کسی حکم کی تعمیل نہ کرے ,خاص کر جب وہ پردے میں کوتاہی کرے یا وہ بغیر کسی محرم کے کسی اور شہر یا ملک میں رہے،تو اب اسکو کیا کرنا چاہیئے ؟ سمجھانے کے علاوہ کیا مرد اپنی بہن سے ناراض ہوجائے؟یا اس سے معاملات میں کمی لائے ؟ تفصیل سے جواب دیں!
شخص مذکور کی بہن اگر واقعۃً احکامِ شرع (شرعی پردہ وغیرہ) کی پابندی نہ کرتی ہو تو اسکا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، اسکی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ سے بصدقِ دل توبہ کرکے آئندہ کیلئے احکام شرع پر عمل کرنے کی پوری کوشش اور اہتمام کرے اور سائل کوبھی چاہیئے کہ حکمت و مصلحت کیساتھ سمجھانے کی کوشش کرے اور ساتھ ہی اسکی ہدایت کیلئے دعاوؤں کا بھی خصوصی اہتمام کرے ان شاء اللہ اُمید ہے کہ وہ اپنے اس عمل سے باز آ جائے، تاہم اگر ہرممکن کوشش کے باوجود وہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہ آئے اور اسکی اصلاح قطع تعلقی سے ممکن ہو تو اصلاح کی غرض سے اس سے قطع تعلقی بھی کی جاسکتی ہے، البتہ مقصد محض قظع تعلقی نہ ہو بلکہ اسکو راہِ راست پر لانا ہو۔
کما فی عمدة القاري شرح صحيح البخاري : (باب ما يجوز من الهجران لمن عصى) أي : هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى ، و قال المهلب : غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز و أن ذلك متنوع على قدر الإجرام ، فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه و اجتنابه و ترك مكالمته ، كما جاء في كعب بن مالك و صاحبيه ، و ما كان من المغاضبة بين الأهل و الإخوان فالهجران الجائز فيها ترك التحية و التسمية و بسط الوجه ، كما فعلت عائشة في مغاضبتها مع رسول الله ﷺ . و قال كعب ، حين تخلف عن النبيﷺ: و نهى النبيﷺ المسلمين عن كلامنا ، و ذكر خمسين ليلة۔الحدیث