السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم جناب مفتی صاحب !میں ایک سٹوڈنٹ ہوں ایک تعلیمی ادارے میں کا م کرتا ہوں، میں نعوذ باللہ مشت زنی کا شکار ہوں، بار بار توبہ کے بعد بھی اس سے چھٹکارا نہیں مل رہا ہے۔ براہ مہربانی میری مدد کریں، مجھے کچھ بتائیں کہ کیسے میں اس سے چھٹکارا پاسکتا ہوں؟
مذکور طریقہ پر اپنی شہوت پوری کرنے پر احادیث مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حتیٰ کہ ایک حدیث مبارک میں ایسے شخص کو ملعون تک قرار دیا گیاہے، اس لیے سائل کو اپنے مذکور ناجائز طرز عمل سے آئندہ کے لیے احتراز واجتناب اور ابھی تک جو عمل سرزد ہوچکا ، اس پر ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار لازم ہے، اب اگر اس گناہ سے بچنے کی شکل نہ ہو، تو سائل کو چاہیے کہ روزوں کے ذریعے اس کا توڑ کرے اوروالدین کے مشورہ سے جلد سے شادی کی فکر کرے تاکہ اس گناہ سے چھٹکارہ ہوسکے۔
کما فی صحیح البخاری: حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، قال: حدثني إبراهيم، عن علقمة، قال: كنت مع عبد الله، فلقيه عثمان بمنى، فقال: يا أبا عبد الرحمن إن لي إليك حاجة فخلوا، فقال عثمان: هل لك يا أبا عبد الرحمن في أن نزوجك بكرا، تذكرك ما كنت تعهد؟ فلما رأى عبد الله أن ليس له حاجة إلى هذا أشار إلي، فقال: يا علقمة، فانتهيت إليه وهو يقول: أما لئن قلت ذلك، لقد قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: «يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء» (7/3)۔