کسی کو (مسلمان کو) گالی دینا کیسا ہے؟ مثلاً اسے یہ کہنا کہ تو اپنا منہ کالا کرتا ہے کہ بیوی کے بھانجیوں،بھانجوں، بھتیجیوں اور بھتیجے کے لۓ عیدی نہیں دیتا ، تو فرعون ہے ، اور اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی ہو تو اسے کہنا کہ تجھے بڑوں کا ادب نہیں ہے ،تجھ پر لعنت ہو وغیرہ ، میں نےایک جگہ پڑھا ہے کہ مسلمان کو گالی دینا ، گالی دینے والے کی بےدینی کی نشانی ہے ، براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق اور بلاوجہ شرعی اس پر لعنت بھیجنا بڑے گناہ کی بات ہے، پھر اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو بھیجنے والے پر وہ کلمات لوٹا دیئے جاتے ہیں، نیز اس طرح لعن طعن کی عادت مسلمان کی شان نہیں، بلکہ قطعاً نامناسب حرکت اور خاص کر کسی سلیم الطبع آدمی سے ایسے کلمات کا ظہور یقیناً ناممکن ہے، اس لۓ مذکور رویہ سے احتراز کی اشد ضرورت ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: و الذین یوذون المؤمنین و المؤمنات بغیر مااکتسبوا فقد احتملوا بھتانا و اثما مبینا۔ الآية(58)۔
و فی روح المعانی : (بغیر ما اکتسبوا)أی بغیر جناية یستحقون بھا الأذية شرعاً بعد اطلاق فیما قبله للایذان بأن اذی اللہ تعالیٰ و رسوله -صلی اللہ تعالیٰ علیه و سلم- لایکون إلا فی غیر حق و أما أذی ھؤلاء فمنه و منه اھ(12/88)۔
و فی التفسیر المظھری : (بغیر مااکتسبوا) أی من غیر ان یعملوا ما یوجب أذاھم و قال یقعون فیھم و یرمون بغیر جرم فقد احتملوا بھتانا و ائما مبینا اھ(7/382)۔
و فی إتحاف الخيرة المهرة : عن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : سباب المسلم أخاه فسوق ، و قتاله كفر ، و حرمة ماله كحرمة دمه اھ(4/ 242)۔
و فی الترمذی : عن أبی ھریرہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم المسلم اخوا المسلم لایخونه و لایکذبه و لایخذله کل المسلم علی المسلم حرام عرضه و ماله و دمه التقوی ھٰھنا بحسب امرئ من الشر ان یحتقر اخاہ المسلم اھ(2/15)۔