میرے بھائی بینک میں جوب کرتے ہیں، اور جیسا کہ بینک کی کمائی جائز نہیں ہوتی، کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اپنی تنخواہ کے برابر رقم کسی سے قرض لے لیں اور جب تنخواہ ملے تو اس سے قرض ادا کر دیں ، کیا اس طرح وہ اپنے گھر والوں کو حلال کھلا پائیں گے ؟
کیونکہ اسی طرح کا مسئلہ میں نے قربانی کے متعلق سنا ہے کہ اگر آپ کی کمائی جائز نہیں ،تو آپ قرض لیکر قربانی کر لیں اور بعد میں اپنی کمائی سے قرض ادا کر دیں ۔
اگر سائل کی ملازمت کسی غیر سودی بینک میں ہو یا کسی سودی بینک میں ایسی ملازمت ہو جس کا براہ راست سودی لین دین سے تعلق نہ ہو، تو اس کی تنخواہ حلال ہے ، اس کے لئے مذکور حیلہ کی ضرورت نہیں ، اگر کسی سودی بینک کے ایسے پوسٹ پر ہو ، جس کا براہ راست لین دین سے تعلق ہو تو ایسی ملازمت اور اس پر ملنے والی تنخواہ حرام ہے، اور اس صورت میں ایسی ملازمت کا چھوڑنا لازم ہے، البتہ دوسری ملازمت ملنے تک یہ حیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے ، مگر یہ قرض کسی مسلمان کے بجائے کسی غیر مسلم سے لیا جائے۔
و في تكملة فتح الملهم: عن جابر قال لعن رسول الله صلى عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهده وقال من سواء ؛ قال الشيخ وقوله صلى الله عليه وسلم وكاتبه لان كتابة الربا اعانة عليه ومن هنا ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام لوجهين الأول اعانة على المعاصية والثانى اخذ الأجرة من المال الحرام، فان معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا واما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا، فانه حرام للوجه الثاني فحسب فاذا وجد بنك معظم دخله حلال جاز فيه التؤظف للنوع الثاني من الاعمال اھ (۱/619)
و في الفتاوى الهندية: إذا أراد الرجل أن يحج بمال حلال فيه شبهة فإنه يستدين للحج ويقضي دينه من ماله كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 220)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0