۱۔اگر ایک آدمی نفل نماز کی نیت کرلے اور اس کے بعد وہ نماز توڑ لے ، تو کیا اس کو اس نفل نماز کی قضاء لازم ہے یا نہیں؟ اور اس طرح اگر کوئی آدمی نفل روزہ رکھے اور رکھنے کے بعد توڑ دے تو اس پر قضاء لازم ہے یا نہیں؟
۲۔ اگر کوئی آدمی نفلی قربانی کرنے کے لۓ جانور خرید لے اور وہ جانور گم ہو جائے یا آدمی ایک جانور خریدلے ،عید والے دن گم ہوا جانور بھی مل جائے اور اس نے دوسرا بھی خریدا ہو ، کیا اس کو دونوں قربانی کرنی ہوگی؟ یا ایک قربانی کرے گا ؟ اور مالدار کے لۓ اس مسئلے میں کیا حکم ہے؟ براہِ کرم راہ نمائی فرما دیں۔
نفلی نماز اور روزہ ، شروع کرنے سے لازم ہو جاتے ہیں ، لہٰذا اگر شروع کرنے کے بعد ، ان کو توڑ دیا جائے ، تو ان کی قضاء کرنا بھی لازم ہوگی ، جبکہ قربانی کا جانور گم ہوجانے کی صورت میں اگر دوسرا جانور خرید لیا جائے اور پھر پہلا جانور بھی مل جائے، تو مالدار پر ایک اور فقیر پر دونوں جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے۔
فی التنویر الابصار : (و لزم نفل شرع فيه قصدا و لو عند غروب و طلوع و استواء على الظاهر )(فإن أفسده حرم إلا بعذر و وجب قضاؤه اھ (2/ 30)۔
و فی الهدایة : و من دخل فی صلاة التطوع أو فی صوم التطوع ثم أفسد قضاه اھ (۱/ ۲۲۳)۔
و فی الدر المختار : و لو ضلت أو سرقت فشرى أخرى فظهرت فعلى الغني إحداهما و على الفقير كلاهما شمني . اھ (6/ 326)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0