کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یکم اپریل کو ’’اپریل فول‘‘ منایا جاتا ہے، جس میں ایک دوسرے سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بعض اوقات بڑے بڑے حادثے رونما ہوتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس کی تاریخ کیا ہے؟ اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی کیا حیثیت ہے؟
اپریل فول‘‘ یوم منانے کے نام پر جو نسی تاریخیں عوام میں مشہور ہیں یہ غیراسلامی اور ناجائز امور پر مشتمل ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ اس کی بنیاد محض جھوٹ بولنے دوسروں کو بے وقوف بنانے یا بلاوجہ کسی پر ظلم کرنے کے بعد اُسے اپنی کامیابی سمجھنے اور آئندہ اُس تاریخ کے آنے پر خوشیاں منانے سے وابستہ ہے، نیز اس دن جھوٹ بولنے اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا اپریل فول سے متعلق تمام امور ناجائز، حرام اور خلافِ شرع ہیں، اس لیے یہ دن منانے اس کے پرگراموں میں شرکت کرنے سے احترازلازم ہے۔
حکومت پر شرعاً لازم ہے کہ اس قسم کے خلافِ شرع امور کا سدِّ باب کرے تاکہ معاشرہ انسانی سے جھوٹ بولنے کی نحوست ختم ہو۔ واللہ أعلم بالصواب!
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0