کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کہ صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ ادا کرنا شرعاً جائز ہے یانہیں؟
صلاۃ التسبیح باجماعت ادا کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر اسے ثابت اور زیادہ باعثِ ثواب سمجھ کر علی سبیل التداعی ادا کرنےکو لازم کر لیا جائے، جیسا کہ فی زماننا مروّج ہے تو اس طرزِ عمل کی وجہ سے یہ شرعاً بدعت بن جائےگا ، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: (ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي اھ(2/ 48)۔
وفی حاشية ابن عابدين: وفي حاشية البحر للخير الرملي: علل الكراهة في الضياء والنهاية بأن الوتر نفل من وجه حتى وجبت القراءة في جميعها، وتؤدى بغير أذان وإقامة، والنفل بالجماعة غير مستحب لأنه لم تفعله الصحابة في غير رمضان اهـ وهو كالصريح في أنها كراهة تنزيه تأمل. اهـ(2/ 49)۔
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0