السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
۱۔ سوال یہ ہے کہ نفل نماز کی جماعت ہے یا نہیں؟
۲۔ کیا رمضان میں شبینہ یا قیام اللیل کی جماعت اور اہتمام کے ساتھ اسے ادا کرنا کہاں تک جائز ہے؟ کیا قرآن وسنت میں ثبوت ملتا ہے؟ اور اس کے لیے باقاعدہ اہتمام کرنا کیسا ہے؟ اور نہ پڑھنے والوں پر لعن طعن کرنا اور یہ کہنا کہ جب تک حلال وحرام کا معاملہ نہ ہو ، اجتماعیت میں سب کو شریک ہونا چاہیئے، ان باتوں کی کہاں تک حقیقت ہے؟ وضاحت قرآن وسنت کی روشنی میں بتا دیں۔
علی التداعی تین سے زائد آدمیوں کا نفل نماز کی جماعت کر لینا باتفاق علماء مکروہ تحریمی ہے ، اور اس کو معمول بنا لینا درست نہیں، جبکہ شبینہ عدم ثبوت اور کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے، اس لئےاسے لازم قرار دینا اور جو شریک نہ ہو اس پر طعن و تشنیع کرنا اور بھی برا ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی غنیة المتملی: وهذا لأن صلاة النفل غیر التراویح ونحوها بالجماعة إنما یکره إذا کان الإمام والمقتدی معا متنفلین به وکان علی سبیل التداعی بان یجتمع جمع کثیر فوق الثلثة حتی لو اقتدی به واحد أو إثنتان لا یکره وفی الثلٰثة اختلاف المشائخ وفی الأربعة یکره اتفاقا ذکره فی الکافی وغیرہ اھ (ص: ۴۵۸)
وفی الدر المختار: (ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي اھ (2/ 48)
وفی بدائع الصنائع: ومنها أن الجماعة فی التطوع لیست بسنة إلا فی قیام رمضان وفی الفرائض واجبة أو سنة مؤکدة اھ (۱/ ۲۹۸) واللہ أعلم بالصواب!
سنن زوائد یا نفل کی چار رکعات میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعددرود شریف اور ادعیۂ ماثورہ پڑھنا
یونیکوڈ نوافل 0