کیا ہم کسی زندہ انسان کیطرف سے عمرہ یا حج کر سکتے ہیں ؟
عمرے میں نائب بنانا بہر صورت درست ہے ، لیکن فرض حج میں نائب بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اصل شخص حج کرنے سے عاجز ہو اور اس کا یہ عجز موت تک برقرار رہے، جبکہ نفل حج میں بغیر عذر بھی نائب بنانا جائز ہے ۔
کما فی الدر : (والمركبة منهما) كحج الفرض (تقبل النيابة عند العجز فقط) لكن (بشرط دوام العجز إلى الموت) لأنه فرض العمر حتى تلزم الإعادة بزوال العذر اھ
و فی الرد تحت : (قوله كحج الفرض) أطلقه فشمل الحجة المنذورة كما فی البحر، وقيد به نظرا لشرط دوام العجز إلى الموت لأن الحج النفل يقبل النيابة من غير اشتراط عجز فضلا عن دوامه اھ (2/598)۔