احکام حج

کسی زندہ انسان کی طرف سےحج و عمرہ کرنا

فتوی نمبر :
19823
| تاریخ :
2013-07-20
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

کسی زندہ انسان کی طرف سےحج و عمرہ کرنا

کیا ہم کسی زندہ انسان کیطرف سے عمرہ یا حج کر سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عمرے میں نائب بنانا بہر صورت درست ہے ، لیکن فرض حج میں نائب بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اصل شخص حج کرنے سے عاجز ہو اور اس کا یہ عجز موت تک برقرار رہے، جبکہ نفل حج میں بغیر عذر بھی نائب بنانا جائز ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر : (والمركبة منهما) كحج الفرض (تقبل النيابة عند العجز فقط) لكن (بشرط دوام العجز إلى الموت) لأنه فرض العمر حتى تلزم الإعادة بزوال العذر اھ
و فی الرد تحت : (قوله كحج الفرض) أطلقه فشمل الحجة المنذورة كما فی البحر، وقيد به نظرا لشرط دوام العجز إلى الموت لأن الحج النفل يقبل النيابة من غير اشتراط عجز فضلا عن دوامه اھ (2/598)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 19823کی تصدیق کریں
0     689
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات