وضو

قطروں کے مریض کے لئے نماز اور حج وعمرہ کے مسائل

فتوی نمبر :
20108
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

قطروں کے مریض کے لئے نماز اور حج وعمرہ کے مسائل

السلام علیکم! میری عمر ۳۸ سال ہے اور میں شادی شدہ ہوں، مجھے دو تین سال سے یہ مسئلہ ہے کہ کبھی کبھی پیشاب کے بعد ۱۰ سے ۱۵ منٹ قطرے نکلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، لہٰذا مجھے درجِ ذیل سوالات کے جوابات دیں۔
(۱)۔ میں پانی سے استنجا کے بعد زیرِ جامہ ٹوائلٹ پیپر رکھتاہوں اور کوشش کرتاہوں کہ نماز سے آدھا گھنٹہ پہلے بیت الخلاء جاؤں اور پھر نماز سے پہلے ٹوائلٹ پیپر نکال کر وضو کرتاہوں، یہ طریقہ کار درست ہے؟
(۲)۔ میں اس حال میں نماز پڑھ سکتاہوں؟
(۳)۔ اور کیا میں ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتاہوں جیسے عصر کے وضو سے مغرب کی نماز؟
(۴)۔ میں انشاء اللہ اس سال حج کیلئے جاؤنگا تو حالتِ احرام میں اس صورتِ حال میں کیا کروں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہیے کہ قضاء حاجت کے بعد قطروں سےا چھی طرح اطمینان ہوجائے، تو اس کے بعد وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرے، اس ایک وضو سے وہ کئی نمازیں بھی پڑھ سکتاہے اور اطمینان کے بعد طواف بھی کرسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی سنن ابی داؤد: عن سلیمان بن بریدة عن ابیه قال صلی رسول اللہﷺ یوم الفتح خمس صلوات بوضوء واحد ومسح علی خفیه. اھ (۱/ ۲۶)
وفی الدر المختار: (وواجبه نیف وعشرون (الی قوله) (والطهارة فیه) من النجاسة الحکمیة علی المذهب قیل والحقیقة من ثوب وبدن ومکان طواف اھ (۲/ ۴۶۹) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سمیع اللہ حنیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 20108کی تصدیق کریں
0     248
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات